 |  الزرقاوی، اسامہ، ایک جان دو قالب؟ |
سترہ اکتوبر کو ایک ویب سائٹ پر شائع کردہ بیان میں ابو مصعب الزرقاوی اور ان کے جنگجوؤں کی جانب سے اسامہ بن لادن کے ساتھ یکجہتی و اتحاد کا عہد کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے کہ الزرقاوی کا اسامہ سے کوئی تعلق ہے اور وہ عراق میں جاری مزاحمت میں مرکزی اہمیت کے حامل ہیں۔ بش انتظامیہ اسامہ اور الزرقاوی کے تعلق کا دعویٰ کرتی آئی ہے لیکن وہ یہ بات پوری طرح ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔
ایک اور پہلو جو اسے دلچسپ بناتا ہے وہ اس بیان کا امریکی انتخابات کے اتنا قریب سامنے آنا ہے۔ آپ اس کے متعلق کیا سوچتے ہیں؟ کیا الزرقاوی کے لیے فلوجہ میں مقامی باشندوں کی مدد کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن ہے؟ کیا الزرقاوی اور اسامہ بن لادن کا مقصد ایک ہی ہے؟ کیا ان دونوں کے درمیان مبینہ تعلق کا فائدہ صدر بش کی انتحابی مہم کو پہنچ سکتا ہے؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
عفاف اظہر: میں کیری کو ووٹ دینا بہتر سمجھتی ہوں کیونکہ بش کو سب دیکھ چکے ہیں کہ انتہائی انتہاپسند انسان ثابت ہوئے ہیں۔ اپنی ضد کی خاطرکتنے مظلوموں کا خون بہا دیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ اقتدار چھوڑیں۔ اور رہی بات کیری کی تو اس سے کوئی خاص امیدیں نہیں مگر وہ لگتا ہے کم سے کم اتنا انتہا پسند نہیں ہے۔ عابد عزیز، ملتان: میرے خیال میں بش اور کیری دونوں ایک محفوظ دنیا کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔ ہمیں کسی اور ہیرو کا انتظار کرنا ہوگا۔ کمل احمد منصور، فیصل آباد: ایک طرف سانپ ہے تو دوسری طرف بچھو۔۔۔ بتاؤ کس سے ڈسواؤں؟ گرمیت سنگھ ناگرا، نیویارک: امریکہ میں غربت، بےروزگاری اور مہنگائی میں بےحد اضافہ ہوا ہے اور اقلیتوں کے حقوق بری طرح پامال ہوئے ہیں۔ میں ٹیکسی ڈرائیور ہوں اور لوگ ہمیں آوازیں کستے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں اور کبھی کبھی ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں۔ قانون اور پولیس ہمیں مسلسل نظرانداز کرتے ہیں۔ محمد ادریس میر گلاب، قطر: میں کیری کو ووٹ دینا چاہتا ہوں۔ طارق محمود، سرگودھا: یو ایس اے پوری دنیا میں بم اور گولے برسارہا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی انسان اس کو پسند کیسے کرے گا؟ ہم تو صرف اور صرف امریکہ کو نفرت دے سکتے ہیں ووٹ نہیں۔ ہارون ریاضل، عارف والہ: میں شاید کیری کو ووٹ دوں گا، اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ کیری بش سے اچھا ہو ورنہ ان کی پہلی ڈیبیٹ سے اندازہ ہوگیا تھا کہ ہوا کا رخ کیا ہے۔ ان دونوں کو ہی پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام کھٹکتا ہے، دونوں نے ہی اس پر بحث کیا تھا۔ ساری دنیا بھی جانتی ہے پاکستان امن پسند ملک ہے۔ اظہر سہیل: آپ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہم کس کو ووٹ دیں گے؟ شیطان کو یا مگرمچھ کو؟ علی رضا چودھری، اسلام آباد: مجھے اگر موقع فراہم کیا جائے تو ووٹ دینے کے لئے امریکہ جاؤں گا۔ ہمیں چاہئے کہ صحیح شخص کو منتخب کریں۔ اور ہم الیکشن میں حصہ لیکر صرف ایک شخص کو ہی منتخب کرسکتے ہیں۔ عبدالغفور، ٹورنٹو: اسامہ اور الزرقاوی دونوں ہی امریکی انٹیلیجنس کی پیداوار ہیں۔ غیر ملکی جنگجؤں کو سی آئی اے نے ہی بھرتی کیا تھا۔ انہوں نے افغانستان میں اپنا کام ختم کر لیا ہے سو اب عراق میں امریکی حملے کے جواز کی صورت نکال رہے ہیں۔ آخر کب تک ہم ان قاتلوں کو اپنا نجات دہندہ سمجھتے رہیں گے؟ انہوں نے اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو اب تک کیا دیا ہے۔ شاہدہ اکرام، ابوظہبی: آپ کن باتوں میں الجھے ہیں، لگتا ہے کہ آپ کی آواز کو نئے موضوعات نہیں مل رہے، سو ہمارا امتحان لیا جا رہا ہے۔ شارمین بلوچ، حیدرآباد: یہ سب جھوٹ ہے، الزرقاوی اور اسامہ مجاہد ہی ہیں، مغربی میڈیا صرف پروپیگنڈا ہی کر سکتا ہے کیونکہ یہ میدانِ جنگ میں نہیں سکتے۔ عفاف اظہر، ٹورنٹو: اس چوہے بلی والے ڈرامے کو چھوڑیں، سب جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے۔ مالک اشتر، امریکہ: کردار وہی رہتے ہیں، اداکار بدل جاتے ہیں۔ ازل سے قیامت تک دو ہی کردار ہیں، اچھے اور برے۔ قرآن نے انہی کو ہر پہلو سے واضح کیا ہے، اب ہر شخص اپنا کردار اور منزلت چن لے۔ اسامہ، الزرقاوی اور بش ایک ہی کردار کے نام ہیں۔ محمد عامر خان، کراچی: اگر آپ نے فارن ہائیٹ نائن الیون دیکھی ہے تو بخوبی یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اسامہ اور ان کے ساتھی کیا ہیں اور ان کا بش سے کیا تعلق ہے۔ علی رضا عوہدری، چوا سیدن شاہ: یہ سب امریکہ کی چال ہے، الزرقاوی کے ذریعے مسلم دنیا کو الو بنانے کی۔ شہلا سہیل، ٹورنٹو: اسامہ، الزرقاوی اور بش، تینوں کا ایک ہی مقصد ہے۔ عمران خان، مشی گن ، امریکہ: حیرت ہے کہ ایک وقت تھا جب امریکہ کو افغانستان سے کوسوں دور اسامہ نظر آجاتے تھے، آج انہیں وہ اس ملک کے ہر حصے پر اپنی فوج ہونے کے باوجود نہیں مل رہے۔ اب الزرقاوی کا نام لے کر ایک نیا تماشا بنایا جا رہا ہے۔ یاسر، میرپور: اسامہ اب ایک فرد نہیں، ایک نظریئے کا نام ہے۔ ہر وہ شخص جو امریکہ مخالف ہے، وہ ان کے آییڈیل بن چکے ہیں اور اس کا انعام امریکہ کو ہی ملنا چاہیے جس نے انہیں اتنا بڑا بنادیا۔ وجیہہ قیوم، کینیڈا: جانتے تو آپ بی بی سی والے بھی ہیں کہ اس دہشت گردی کے ڈرامے کا مقصد کیا ہے اور بش ہی اسامہ اور الزرقاوی کا تیسرا روپ ہیں۔ آپ اس کی حمایت کرنی چھوڑ دیں۔ عامر نواز، چکوال: یہ سب امریکہ کا فراڈ ہے۔ آج تک اسامہ نہیں ملے، اب الزرقاوی کا نام لے کر دنیا کو بےوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اگر یہ لوگ اصل میں موجود بھی ہیں تو امریکہ کی ہی پیداوار ہیں۔ احد ریاض کمبوہ، دریا خان: الزرقاوی اور اسامہ دونوں مسلمان ہیں اور دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ صرد بش کو ان کے مبینہ تعلق سے فائدہ پہنچے گا کیونکہ وہ چاہتے ہی یہی ہیں کہ انہیں عراق میں جنگ کرنے کی وجہ مل جائے۔ جاوید، جاپان: یہ سب سیاست کے پتے ہیں۔ اندر سے سب ملے ہوئے ہیں اور کوئی بھی یہ کھیل دوسرے کے بغیر کھیل نہیں سکتا۔ مرتے بے چارے عام لوگ ہیں۔ اندازہ لگائیں کہ اب تک تمام بڑے لوگ، خواہ اسامہ ہو، یا ملا عمر یا صدام سب زندہ ہیں۔ یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔ شباب خان، پشاور: اسامہ اور الزرقاوی دونوں درندے ہیں جن کا مقصد انسانیت کا قتل ہے۔ یہ اسلام کے نام پر یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ سادہ لوح مسلمان امریکہ کی دشمنی میں اندھے ہوکر درندہ صفت لوگوں کی حمایت کرکے گناہ گار ہو رہے ہیں۔ یہ نہ صرف معصوم انسانوں کو مار رہے ہیں نلکہ آپس میں بھی شیعہ اور سنیوں کو مار رہے ہیں۔ صدر مشرف کو ان کی صفوں میں گھس کر انہیں ڈھونڈھ نکالنا چاہیے اور پھانسی چڑھا دینا چاہئے۔ صدر مشرف اور صدر بش دونوں کو ہماری دعائیں کہ وہ ان سب کو حتم کرسکیں۔ نجیب الرحمٰن، نانجنگ، چین: یہ بیا ن زرقاوی کا نہیں ہے بلکہ اس کے نام سے منصوب کیا گیا ہے۔ یہ سب بش کے ہتھکنڈے ہیں۔ شاہ فیصل، صوابی، پاکستان: زرقاوی کو زبردستی زرقاوی کے ساتھ جوڑا جا ریا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ اس متں بھت بش کی کوئی چال ہو۔ بش اور زرقاوی دونوں معصوم لوگوں کی جان سے کھیل رہے ہیں۔ علینہ طاہر، ٹورانٹو، کینیڈا: میرے لیے یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت جدید ٹیکنالوجی سے محروم شخص کو نہ پکڑ سکے۔ جو کچھ ہو ریا ہے کسی بڑی منصوبہ بندی کا حصہ لگتا ہے۔ علی عمران شاہیں، لاہور، پاکستان: مقامی آبادی کے تعاون کے بغیر گوریلا جنگ لڑنا ناممکن ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ عراقی امریکہ کے جانی دشمن بن چکے ہیں اس لیے وہ زرقاوی کی حمایت کرتے ہیں۔ زرقاوی ہو یا کوئی اور مجاہد، ان سب کا مقصد ایک ہی ہے اس لیے یہ سارے اصل میں ایک ہی ہیں۔ بش نہ تو اسامہ کو پکڑ سکے اور نہ ہی ملا عمر کو، بلکہ انہوں نے اپنا ایک اور دشمن پیدا کر لیا ہے۔ سنتوش کمار، کراچی، پاکستان: زرقاوی کے اس بیان سے بش کو بہت فائدہ پہنچے گا۔ آصف ججہ، ٹورانٹو، کینیڈا: امریکی میڈیا جھوٹ بھول رہا ہے۔ راحیل علوی، لاہور، پاکستان: یہاں ایک نہیں کئی زرقاوی ہیں اور سب کو مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ جب تک دنیا میں انصاف نہیں ہوتا کہیں بھی امن نہیں ہوسکتا۔ طارق مقصود، فیصل آباد، پاکستان: یہ اسلام اور عراق دونوں کے لیے اچھا ہے۔ حامد مروت، اسلام آباد، پاکستان: جہاں تک زرقاوی کو مقامی حمایت حاصل ہونے کا تعلق ہے تو یہ بالکل صحیح ہے کہ ان کو یہ حاصل ہے۔ اسامہ اور زرقاوی کا مقصد ایک ہی ہے۔ ان دونوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو رسوا کر کے چھوڑیں گے۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: امریکہ کے دل و دماغ پر اسامہ اس بری طرح سوار ہو چکا ہے کہ ہر داڑھی والا شخص اسے اسامہ لگتا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ اسامہ صرف ایک نام ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں۔ عاطف مرزا، آسٹریلیا: لیجیے جناب، امریکہ نے ایک اور نام پکڑ کر پراپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔ پہلے اسامہ کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کیا اور اب جب یہ نام پرانا ہوگیا تو ایک اور پکڑ لیا۔ عطاءالقدوس طاہر، ٹورانٹو، کینیڈا: لگتا ہے اسامہ یا الزرقاوی میں سے کوئی پکڑا جا چکا ہے اور اب اس کو الیکشن کے موقع پر کیش کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کا فائدہ یقیناً بش کو ہی پہنچے گا۔ خوف پیدا کر کے امریکی عوام کی ہمدردیاں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اظہر سہیل، ٹورانٹو، کینیڈا: جناب مجھے زرقاوی اور اسامہ کے تعلق کا تو پتا نہیں البتہ بش اور اسامہ کے بارے میں حتمی طور پر کہہ سکتا ہوں کہ وہ یک جان دو قالب ہیں۔ دونوں ایک طرح کی شخصیت کے مالک ہیں۔ بس بش ذرا مہذب دہشت گرد ہیں جبکہ اسامہ غیرمہذب۔ کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا: آپ ایسے موضوعات پر رائے نہ پوچھا کریں جس پر سب ہی دل جلا کر بیٹھے ہوں۔ راکھ کو کرید کر کیا ملے گا آپ کو اور ویسے بھی بش جیتے یا نہ جیتے پہلے اس نے ہمیں کیا دیا ہے جو اب دے گا؟ آپ اگر ہماری رائے پوچھتے ہیں تو کم از کم ہماری پوری رائے دیا کریں۔ یہ کانٹ چھانٹ والا چکر چھوڑیں۔ اپنی رائے ہی دینا ہے تو خود ہی دے دیا کریں ہم سے کیوں پوچھتے ہیں؟ ایمن سہیل، ٹورانٹو، کینیڈا: بش صاحب کا کیا ہے، وہ تو پہلے بھی جیتے بغیر صدر بن گئے تھے اب بھی بن جائیں گے۔ان کی کرسی بہت مضبوط ہے، ان کو خدا ہی اتارے تو اتارے کوئی انسان نہیں اتار سکتا۔ |