BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 September, 2004, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش یا کیری؟ آپ کیا کہتے ہیں
بش اور کیری روبرو: آپ کی رائے
بش اور کیری روبرو: آپ کی رائے
امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اور ان کو چیلنج کرنے والے صدارتی امیدوار جان کیری نے پہلی بار امریکی عوام کے سامنے ایک دوسرے سے مباحثہ کیا۔

دونوں امیدواروں نے فلوریڈا کی یونیورسٹی میں موجود حاضرین کے سامنے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مختلف پہلوؤں پر ایک دوسرے کے خیالات پر نکتہ چینی کی اور اپنا موقف پیش کیا جسے لاکھوں لوگوں نے ٹی وی پر بھی دیکھا۔

جان کیری نے صدر بش کی عراق پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عراق پر حملے نے امریکہ کو تنہا کر دیا ہے اور اسلامی دنیا میں یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ امریکہ اسلامی دنیا کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اسامہ بن لادن تورا بورا کے پہاڑوں میں محصور ہو گئے تو صدر بش نے انہیں ختم کرنے کا کام افغان جنگجوؤں کے حوالے کیا اور ساری توجہ عراق پر مرکوز کر لی۔

صدر بش نے عراق پر حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک سے زیادہ جگہوں پر لڑی جا رہی ہے۔ سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ہم عراق میں ناکام ہوجائیں لیکن ہم یقیناً کامیاب ہوں گے کیونکہ عراقی آزادی چاہتے ہیں۔

کیا اس مباحثے کے بعد صدر بش یا جان کیری کے متعلق آپ کی رائے میں کوئی تبدیلی آئی؟ اس دوران کس نے اپنا موقف بہتر طور پیش کیا؟ دونوں کی عراق اور قومی سلامتی کی پالیسی پر آپ کی کیا رائے ہے؟ اپنے تاثرات ہمیں لکھ بھیجیں۔

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


صلاح الدین لنگاہ، جرمنی:
خربوزہ اوپر ہو یا چُھری، کٹا تو خربوزہ ہی ناں۔ ان دونوں میں سے جو بھی جیتا مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہونے جا رہا۔

شاہدہ اکرم، ابو ظبی، متحدہ عرب امارات:
ابھی تک تو یہی لگ رہا ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف شخصیات کے مالک ہیں۔ مگر آپ کیا کہہ سکتے ہیں کہ کیری صاحب کے موجودہ بیانات صرف الیکشن مہم تک ہی محدود نہیں رہیں گے۔ ہم تو اس دن ہی کچھ اچھے کی امید کر سکتے ہیں جب امریکہ کی پالیسیاں امن پسندانہ ہوں گی۔

محمد علی، ٹورانٹو، کینیڈا:
ہاں، کیری کا جذبہ بتا رہا ہے کہ ان کا مستقبل شاندار ہے۔

اکبر ملک، اسلام آباد، پاکستان:
کیری ہو یا بش، کچھ فرق نہیں پڑے گا۔ امریکہ کی بطورملک پالیسیاں وہی رہیں گی۔

ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان:
جو بھی آئےگا وہ سی آئی اے اور پینٹاگون کی بنائی ہوئی پالیسی پر عمل کرے گا۔ امریکہ کے صدر کے پاس پالیسی بنانے کا اختیار نہیں ہوتا جس کی حالیہ مثال عراق پر امریکہ حملہ ہے۔ اب صدر بش کہہ رہے ہیں کہ عراق پر حملہ کا فیصلہ سی آئی اے اور پینٹاگون کی غلط رپورٹوں کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان:
کیری کی پالیسیوں کی سمجھ نہیں آتی، وہ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ بُش تو شروع سے ایک ہی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں اور وہ ہے مسلمانوں کا قتلِ عام ۔

امن اور ترقی
 دنیا کو پُرامن بنانےاور ترقی کی طرف لے جانے کے لیے تحمل اور برداشت کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف جان کیری جیسے رہنما ہی کر سکیں گے۔
شہریار خان، سنگاپور

نعیم اختر، گوجرانوالہ:
امریکیوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ بش کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا باقی دنیا کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

فیصل چانڈیو، حیدرآباد:
جو بھی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ قیام امن سب سے اہم بات ہے۔ جب تک بلیئر، بش، شیرون اور مشرف ہیں اور امریکہ کے آنے والے صدر مسلمانوں پر تنقید کر رہے ہیں تو ہم ایسے وقت میں جان کیری پر یقین کیسے کر سکتے ہیں۔

چوہدری جمیل احمد خان، کمالیہ:
جان کیری سب سے بہتر ہیں۔

شہریار خان، سنگاپور:
صدر بش کے اقدامات انہیں شکست کی طرف لے جا رہے ہیں۔ جان کیری نے سخت محنت اور دور اندیشی سے اپنی سیاسی مہم کو کامیابی کی طرف لے جانا شروع کر دیا ہے۔ دنیا کو پُرامن بنانےاور ترقی کی طرف لے جانے کے لیے تحمل اور برداشت کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف جان کیری جیسے رہنما ہی کر سکیں گے۔

عنبرین بنگش، ٹورانٹو:
بش ہوں یا کیری سب ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں۔ جو بھی آئے گا مسلمانوں کا دشمن ہی ہو گا۔

عفاف اظہر، سرگودھا:
بش اور کیری ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں کی سوچ مسلمانوں کے بارے میں ایک سی ہے۔

آصف جاجا، ٹورانٹو:
دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔ عراقی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ لوگ تیل پر قبضہ کرنے وہاں گئے ہیں۔

میاں علی، کینیڈا:
اگر اس مباحثے میں صدر بش اپنے مہمان سابق صدر صدام حسین کو بھی بلا لیتے تو محفل میں سرور آ جاتا۔

عبدالحسیب، پشاور:
میرے خیال میں بش آئیں یا کیری، کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ پاکستان کو کسی کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔

سلمان خان، ٹورانٹا:
میرے خیال میں بش اور کیری کے درمیان کڑا مقابلہ ہو گا اور جان کیری جیت جائیں گے۔

عرفان عنایت، سمبریال:
پنجابی کی ایک کہاوت ہے کہ ’اکو مُڈ کماد دا تے نئیں کوئی گنا سواد دا‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ گنے کے کھیت میں سارے گنے ایک سے ہوتے ہیں۔

سپین گُل ابراہیم خیل، مالاکنڈ ایجنسی:
صدر بش اور ان کے جنرل مشرف جیسے دوست اسلام، مسلم برادری اور عالمی امن و اتحاد کے لیے خطرہ ہیں۔ ہم تو بس یہی امید کر سکتے ہیں کہ جان کیری ان سے مختلف ہوں۔

شاہد، امریکہ:
اجی مباحثہ کوئی بھی جیتے لیکن ہم آپ کو سو فیصدی ضمانت دیتے ہیں بش جیت جائیں گے کیونکہ انتخابات سے کچھ دن پہلے اسامہ بن لادن کہیں سے نکل آئیں گے اور بش کہیں گے کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت لی ہے۔

سلیم بیگ، گلگت:
بش اور کیری دونوں مسلمانوں کے خلاف ہیں۔

نامعلوم:
کیری کی تقریر بہتر تھی۔

اشرف چوہدری، کینیڈا:
صدر بش ہمارے زمینداروں اور وڈیروں کی طرح ہیں جنہوں نے صدارت بھی طاقت کے بل بوتے پر حاصل کی تھی۔ بش کیری نے اپنی تقریر میں ایک سجھدار آدمی ہونے کا تاثر دیا۔ میرے یال میں وہ آئندہ صدر ہوں گے اور یہ پوری دنیا کے لیے اچھی بات ہو گی۔

اظہر خان، سعودی عرب:
چاہے کیری ہو یا بش، مسلمانوں کا وھی حشر ہو گا جو ہو رہا ہے۔ یااللہ ہمیں کافروں سے نجات دلا اور تمام مسلمان قوموں کو جگا دے۔

شاہد ناگرا، کینیڈا:
میرے خیال میں کیری کا اگلے چار سال کے لئے امریکہ کے صدر کے طور پر انتخاب دنیا کے امن کے لئے اچھا ثابت ہو گا۔

صابر خان، پاکستان:
جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، ان کے لئے بش اور کیری میں کوئی فرق نہیں کیونکہ مسلمان دنیا کے جانب دونوں کی پالیسیاں ایک جیسی ہیں۔

بہتر امیدوار
 کیری نے بش کو مکمل طور پر شکست دے دی اور اکثر مواقع پر ان کے نکات کا بش کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس مباحثہ کے بعد کیری اور بھی زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
خالد، کینیڈا

ظہیر چٹھہ، جرمنی:
میرے خیال میں کیری زیادہ ٹھنڈے مزاج کے مالک ہیں جبکہ بش اپنی پالیسیوں کے بارے میں زیادہ پراعتماد نہیں۔

فواد احمد قریشی، لاہور:
میں سجھتا ہوں کہ دونوں ایک جیسے ہیں۔ بش آزمائے جا چکے ہیں، اس لئے میرے خیال میں اب کیری کو آزمانا چاہیے لیکن جان کیری سے بھی زیادہ امید نہیں کہ وہ امریکہ کی پالیسی تبدیل کریں گے۔

جیوڈتھ ہڈ سن، امریکہ:
کیری نے واضح طور پر مباحثہ جیت لیا۔ ان کا پیغام واضح تھا۔ بش کمزور اور مبہم نظر آئے اور اپنے نقطہ نظر کو وضاحت سے پیش نہ کر سکے۔

سہیل کیانی، کینیڈا:
جان کیری نے اپنا نقطہ نظر بش کی نسبت بہتر طریقے سے پیش کیا۔ کیری کے پاس مستقبل کے لیے ایک منصوبہ ہے اور ان کے ذہن میں بش کے نسبت زیادہ اور واضح حقائق ہیں۔

خالد، کینیڈا:
کیری نے بش کو مکمل طور پر شکست دے دی اور اکثر مواقع پر ان کے نکات کا بش کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس مباحثہ کے بعد کیری اور بھی زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

جاوید اقبال ملک، پاکستان:
میرے خیال میں کیری نے اپنا موقف بہتر طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے امریکہ کو جنگ کی دلدل سے نکانے کا وعدہ کیا اور دنیا کو امن کا پیغام دیا۔

امن کا پیغام
 میرے خیال میں کیری نے اپنا موقف بہتر طریقے سے پیش کیا۔ انہوں نے امریکہ کو جنگ کی دلدل سے نکانے کا وعدہ کیا اور دنیا کو امن کا پیغام دیا۔
جاوید اقبال ملک، پاکستان

نفیس نصیر، اٹلانٹا، امریکہ:
جان کیری موضوع کے حساب سے بولے اور انہوں نے بش کو دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کردیا۔ انہوں نے تمام عالمی امور پر عالمانہ انداز میں گفتگو کی۔

انس ملک، ٹورنٹو، کینیڈا:
جان کیری ہی یہ مباحثہ جیتے ہیں۔ ان کے دلائل وزنی اور درست تھے۔ ان کے انداز سے بھی ان کی دانشمندی اور اپنے ملک سے وفاداری واضح تھی۔ ان کی کارکردگی توقعات سے کہیں بہتر رہی۔ تمام تر بحث پر ان کی گرفت رہی جبکہ بش دفاعی انداز اختیار کیے رہے اور انہوں نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پایا۔ جب بھی انہوں نے جارحانہ ہونے کی کوشش کی، جلد ہی انہیں اپنے پنجرے میں واپس لوٹنا پڑا۔ اوپنین پولز سے جلد ہی ثابت ہو جائے گا کہ جان کیری ہی اس مباحثے کے فاتح تھے۔

غلام فرید شیخ، گمبٹ :
جان کیری درست کہتے ہیں اور بش سو فیصد غلط۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت بہت بڑھ گئی ہے۔ مجھے تو کیری پراعتماد بھی زیادہ نظر آئے۔ باقی یہ قبل از وقت ہے کہ کیری کیسے ثابت ہوں گے۔

افغانستان پربش، عراق پرکرزئی
 آئیڈیل صورتِ حال نہ سہی پھر بھی کرزئی کی حکومت انتہا پسند طالبان سے بہت بہتر ہے۔ میں افغانستان پر بش اور عراق پر کیری کی حمایت کرتا ہو
لیاقت علی

لیاقت علی:
عراق اور افغانستان کی صورتِ حال میں بہت فرق ہے۔ عراق دہشت گردوں، مجرم پیشہ افراد اور انتہا پسندوں کی جنت بنتا جا رہا ہے جبکہ افغانستان میں اگرچہ آئیڈیل صورتِ حال نہ سہی پھر بھی کرزئی کی حکومت انتہا پسند طالبان سے بہت بہتر ہے۔ میں افغانستان پر بش اور عراق پر کیری کی حمایت کرتا ہوں۔

احمد نواز، کراچی، پاکستان:
واہ کیری، چھ مہینے میں فوجیں واپس۔ آپ کو تو اسی بات پر انتخابات جیت لینے چاہئیں۔

حمایت اللہ، نوشہرہ، پاکستان:
کیری کو اپنی بات کہنا آتی تھی اور وہ موضوع سے نہیں ہٹے۔ انہیں معلوم رہتا تھا کہ ان سے کیا پوچھا جا رہا ہے اور انہیں جواب کیا دینا ہے لیکن بش سے پوچھا کچھ جاتا تھا اور وہ جواب کچھ اور دیتے تھے۔

عطاء القدوس طاہر، ٹورنٹو، کینیڈا:
صدر بش اور جان کیری ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ کیری پہلی تقریر میں میادہ انصاف گو نظر آئے لیکن جب تک انصاف کی نظر سے حالات کو نہیں دیکھا جائے گا، بہتری کی کوئی امید نہیں۔

مظہر عباس، کاہور، پاکستان:
جان کیری مثبت رویئے پر یقین رکھنے والے آدمی ہیں۔

گل ایاز گل، اسلام آباد، پاکستان:
جان کیری بالکل صحیح تھے اور امریکہ کا اگلا صدر ان ہی کو بننا چاہیے۔ صدر بش بہت کنفیوژڈ تھے اور وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق اور افغانستان میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کا دفاع نہ کر پائے۔

ناصر، جرمنی:
مسلم دنیا کو اس سے کویی فرق نہیں پڑتا کہ امریکہ کا اگلا صدر کون ہے؟ ان دونوں کی مسلمانوں کے حوالے سے پالیسی ایک ہی ہے، صرف ان دونوں کے طریقہِ کار میں فرق ہے۔ مسلمانوں کو اپنا مستقبل اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔

میرا ووٹ کیری کو
 میں جان کیری ہی کو ووٹ دوں گا۔ انہوں نے جنگ کے بارے میں اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کیا جبکہ اس کے مقابلے میں صدر بش کا تمام تر انحصار اس رائے پر تھا کہ کیری کھل کر بات نہیں کرتے۔
سید، نیویارک، امریکہ

سید، نیویارک، امریکہ:
اس مباحثے سے پہلے میں فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا لیکن اب میں جان کیری ہی کو ووٹ دوں گا۔ انہوں نے جنگ کے بارے میں اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کیا جبکہ اس کے مقابلے میں صدر بش کا تمام تر انحصار اس رائے پر تھا کہ کیری کھل کر بات نہیں کرتے۔ یہ بش کا مسئلہ بن چکا ہے کہ وہ اپنے اور اپنی انتظامیہ کے ریکارڈ پر بات کرنے کے بجائے اخباری قیاس آرائیوں سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

محمد اقبال، چکوال، پاکستان:
جھوٹ آخر جھوٹ ہے، اسے کبھی سچ پر برتری حاصل نہیں ہوسکتی۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ عراق پر حملہ بش کی بڑی غلطی تھی، بش اس کا کیسے دفاع کریں گے، کیری سچ کہتے ہیں۔

فیصل اظہر، نارتھ کیرولائنا، امریکہ:
کیری تو کل چھا گئے۔ بش کے پاس سوائے گیارہ ستمبر کے کچھ نہ تھا۔ میرا خیال ہے کہ کیری جیتیں گے لیکن جو بھی جیتے مسلمانوں کے لیے اچھا ہو۔

شاہد احمد شگری، گلگت، پاکستان:
کیری نے اپنے موقف کو اچھی طرح بیان کیا جبکہ بش اپنا پیغام دنیا تک پہنچانے میں ناکام رہے۔

ثاقب خورشید، سعودی عریبیہ:
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ امریکی منصوبہ ساز اپنی پالیسی پچاس برس کے لیے متعین کرتے ہیں، صرف صدر بدلنے سے مسلمانوں کے لیے ان کی خارجہ پالیسی نہیں بدلے گی۔

محمد امین، ہیوسٹن، امریکہ:
بظاہر بہادر نظر آنے والے بش دراصل خوفزدہ ہی لگے۔ انہیں عراق پر جنگ کے اپنے موقف کے کمزور ہونے کا تکلیف دہ احساس شروع ہی سے دامن گیر تھا اور انہوں نے اس غیرقانونی جنگ کا دفاع کرنے کی بہت کوشش کی۔ کیری ہی جیتیں گے۔

ہارون علو، برطانیہ:
کیری بہت بہتر تھے بش سے۔ مجھے یقین ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے تعلقات بہتر بنائیں گے۔

اکرم رامے، ٹورنٹو، کینیڈا:
جان کیری نے نہایت دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ثابت کیا کہ وہ ایک اعلیٰ اور جہان دیدہ رہنما ثابت ہوں گے۔ ان کی باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ انسانی ہلاکتوں پر یقین نہیں رکھتے اور بڑے سے بڑے مسئلے کو بات چیت سے حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بش نے ثابت کیا کہ وہ ہر مسئلے کو طاقت کے زور پر حل کرناا چاہتے ہیں اسی لیے بش کے دور میں نہ صرف عراق بلکہ امریکہ کے بھی کئی ہنستے بستے گھرانے اجڑے ہیں۔ اس مباحثے سے ثابت ہوا ہے کہ کیری امریکہ کو امن و دوستی کے ذریعے دنیا میں اس کا کھویا ہوا وقار واپس دلوانا چاہتے ہیں جبکہ بش طاقت کے استعمال سے امریکہ کو دنیا سے دور لے جانا چاہتے ہیں۔

بیٹنگ اراؤنڈ دی بش
 میں نے پوری بحث دیکھی اور کسی بھی لمحے بش ان سے آگے نہیں نکل پائے۔ بش اپنے نکات کو ثابت نہیں کر پائے اور ان کا اندازِ بیان بھی خاصا برا تھا۔
سعد صالح، نیو یارک، امریکہ

سعد صالح، نیو یارک، امریکہ:
کیری کی پرفارمنس زبردست تھی۔ میں نے پوری بحث دیکھی اور کسی بھی لمحے بش ان سے آگے نہیں نکل پائے۔ بش اپنے نکات کو ثابت نہیں کر پائے اور ان کا اندازِ بیان بھی خاصا برا تھا۔ بش واقعی ’بیٹنگ اراؤنڈ دی بش‘ کی مثال تھے۔

فتح مدنی، کراچی، پاکستان:
صدر بش دہشت گردی کو نہیں بلکہ صدام اور اسامہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔

محمد ریاض، امریکہ:
بش کا کیری سے کوئی مقابلہ نہیں۔ اس لیے نہیں کہ کیری بہت اچھے ڈبیٹر ہیں بلکہ اس لیے کہ صدر بش کو جھوٹ بولنے کی بیماری ہے۔ انہوں نے عراق پر اس لیے حملہ کیا کہ صدام نے ان کے والد کو مارنے کی کوشش کی۔ وہ اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا چاہتے تھے اور عراق کے تیل کی دولت پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ بش کو صرف شکست ہی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان پر اور ان حواریوں جیسے کہ بلیئر، رائس، رمسفیلڈ اور وولفوویتز پر مقدمہ چلنا چاہیے۔

بی بی سی فارسی ڈاٹ کام سے آراء

نیما افراسیابی، شیراز:
اگر ہم اس مباحثہ کو ایک فٹبال میچ سے تشبیہہ دیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کیری کی ٹیم نے جارحانہ انداز میں میچ کھیلا جبکہ بش کی ٹیم نے دفاعی انداز اختیار کیا اور کیری کی غلطیوں پر انحصار کیا۔ بش کی خارجہ پالیسی میں واضح کمزوری ان کی عراق پالیسی ہے۔ بش کی کوشش تھی کہ وہ اپنے فریق کے بیان میں تضاد کی نشان دہی کریں۔

undefined
 اگر ہم اس مباحثہ کو ایک فٹبال میچ سے تشبیہہ دیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کیری کی ٹیم نے جارحانہ انداز میں میچ کھیلا جبکہ بش کی ٹیم نے دفاعی انداز اختیار کیا اور کیری کی غلطیوں پر انحصار کیا۔
نیما افراسیابی، شیراز

سید حسین، کوالالمپور:
بش کی پالیسیوں کے نتیجے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ کیری کی معتدل پالیسیوں کے نتیجے میں کم از کم امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ تو نہیں ہو گا۔

مہدی، تہران:
کیری یا بش دونوں میں سے کسی کے بھی جیتنے کی صورت میں امریکہ کی پالیسیاں تبدیل نہیں ہوں گی۔

سنہ منصوری، تہران:
میرے لیے لمحہ فکریہ بش کی یہ بات تھی کہ ایران کے خلاف امریکہ کی معاشی پابندیاں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بش ایران کو عراق کی طرح ایک ملک سمجھتا ہے اور یہ ایران کے لیے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

بی بی سی اسپین ڈاٹ کام سے آراء

این، امریکہ:
میں سمجھتی ہوں کہ اس مباحثہ نے امریکی رائے دہندگان کو بتا دیا ہے کہ کیری میں بش کی نسبت صدر بننے کی زیادہ صلاحیتیں ہیں۔ اس مباحثہ کے دوران بش نے عراق کی آزادی اور امریکہ میں حفاظتی اقدامات کی بات دہرائی جبکہ کیری نے حالات حاضرہ کی تفصیل دی ہے اور ٹھوس حقائق اور اہم اعدادوشمار پیش کیے۔ یہ مباحثہ دیکھنے کے بعد میری رائے کیری کے حق میں ہو گئی ہے۔

تقابلی جائزہ
 اس مباحثہ کے دوران بش نے عراق کی آزادی اور امریکہ میں حفاظتی اقدامات کی بات دہرائی جبکہ کیری نے حالات حاضرہ کی تفصیل دی ہے اور ٹھوس حقائق اور اہم اعدادوشمار پیش کی
این، امریکہ

ایڈمنڈو گارشیا، امریکہ:
کیری جیت گئے ہیں۔ بش میں اعتماد کی کمی نظر آرہی تھی اور انہوں نے اپنی وہی پرانی کہانی دہرائی۔

الفریڈو گلارگا، ایڈیلیڈ، آسٹریلیا:
کیری جمی کارٹر کی مانند ایک مستند ڈیموکریٹ ہیں۔ وہ کچھ نہیں جانتے اور ناامیدی کا شکار ہیں ۔ اسی لیے انہوں نے عراق کی جنگ کے بارے میں
اپنے خیالات میں تبدیل کر لیے ہیں۔

گستاوو ٹروکونس، وینیزویلا:
مجھے لگتا ہے کہ دونوں امیدواروں کا مرکزی خیال ایک ہی ہے کیونکہ کیری نے کھل کر جنگ کی مذمت نہیں کی ہے۔ امریکہ میں حفاظتی انتظامات ہنوز تسلی بخش نہیں۔

ادلبرٹو ولیجو، فلوریڈا، امریکہ:
کیری نے میری امید سےکہیں زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدر بش کچھ تھکے تھکے نظر آئے مگر وہ اپنے مرکز پر قائم رہے اور بے شک وہ سب سے اچھے امیدوار ہیں۔

کرسٹوبل پریز جریز، کوسٹا ریکا:
اس مباحثہ میں بش نے عدم اعتمادی اور نا اہلی کا ثبوت دیا ہے۔ کیری نے مباحثہ آسانی سے جیت لیا۔

واضح فتح
 اس مباحثہ میں بش نے عدم اعتمادی اور نا اہلی کا ثبوت دیا ہے۔ کیری نے مباحثہ آسانی سے جیت لیا۔
کرسٹوبل پریز جریز، کوسٹاریکا

رے گٹیریز، بارسلونا، اسپین:
یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک شخص دوسرے سے زیادہ دوستانہ اور عقلمند ہے ۔ لیکن وہ ان حاکموں کا وفادار ہو گا جو امریکہ میں ا اقتدار کے اصل مالک ہیں۔

بی بی سی عربی ڈاٹ کام سے آراء

خالد فیاض، دوہا، قطر:
امریکی پالیسی کے مقاصد بدلتے نہیں ہیں۔ وہ ہم جیسے نہیں ہیں۔ انکے ہاں ’پچھلی‘ اور ’سابق‘ حکومتوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔ کیری اور بش ایک ہی سکے کے دو بازو ہیں۔

ساحل ہاشم، جدہ، سعودی عرب:
ڈیموکریٹک امیدوار نے عراق مسئلہ کو حل کرنے کے معاملے میں اپنی سیاسی ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔ہاں، جہاں تک عراق کے مسئلے کا حل ہے ایک بین الاقوامی فوج اقوام متحدہ کی نگرانی میں رکھی جانی چاہئیے۔ اور اس پالیسی کو خارج کر دیا جانا چاہیے جس کا مقصد موجودہ حالات سے امریکہ اور متحدہ طاقتوں کا معاشی فوائد حاصل کرنا ہے۔ جو اس بے انصاف، غیر اخلاقی اور غیر قانونی جنگ میں شریک تھے۔

کتنے ہی آنسو بہالے
 کیری نہیں جیتیں گے اور امریکہ کی پالیسیاں نہیں بدلیں گی۔ بی بی سی عربی بھلے ہی کتنے آنسو بہالے۔
سہیر صالح ادی لائمی، سویڈن

سہیر صالح ادی لائمی، سویڈن:
کیری نہیں جیتیں گے اور امریکہ کی پالیسیاں نہیں بدلیں گی۔ بی بی سی عربی بھلے ہی کتنے آنسو بہالے۔

متھانا عبدل ستار، سٹاک ہوم، سویڈن:
اگر کیری جیتتے ہیں تو امریکہ کی پالیسیوں خاص طور پر، دہشت گردی کے خلاف کی جنگ میں قابل محسوس فرق پڑے گا۔ اور اس سے اقوام متحدہ کو ایک بڑا اور پر اثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ اور فرانس اور جرمنی جیسے ملکوں کو عراق مسئلے کو حل کرنے میں حصہ ادا کرنے کا موقع بھی ملے گا اور عراق کو ڈر اور خوف کے دائرے سے باہر نکالنے کا موقعہ ملےگا۔ یہ موقع جب تک بش نظام کی حکومت ہے نہیں مل سکتا کیونکہ یہ تو صرف خود کو سچا اور فاتح بتانے میں لگے ہیں اور اس کے حصول کے لیے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر بہت دور جائیں گے۔

بی بی سی رشیا ڈاٹ کام سے آراء

لیوند، ماسکو:
میں نے آج صبح یہ مباحثہ سنا۔ دونوں امیدوار ایک دوسرے سے طاقت میں مطابقت رکھتے ہیں ۔ اگر چہ کہ دونوں کی آوازیں ڈگمگاتی ہوئی تھیں۔ جیسے کہ وہ امتحان میں شریک ہونے والے طالب علم ہوں۔

وتسا، یوکرین:
مجھے ناسمجھی پر حیرت ہے۔ یہ تو ایک کھیل جیسا لگتا ہے۔ اور بے شک کیری ایک مظبوط کھلاڑی ہیں۔ لیکن کیا وہ سیاست میں بھی اتنے ہی مظبوط ثابت ہونگے؟ ان دونوں ہی نے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ’سائے‘ سے
آسانی سے پیچھا چھڑالیا۔

الیکسی، روس:
امریکہ کے لیے وہاں حکومت کا بدلنا اتنا دشوار نہیں جتنا کہ روس کے لیے لیکن اگر کیری جیتتے ہیں تو خارجہ پالیسی کے کچھ نقوش تو ضرور بدلیں گے اور اسکا اثر روس پر بھی پڑے گا۔ اکثر ڈیموکریٹ رہنما ( مرحوم کینیڈی کے سوا ) بہت یورپی انداز رکھتے ہیں۔ ان کی خارجہ پالیسی سچائی اور حقیقت سے دور ہوتی ہے۔ وہ دنیا میں امریکہ کے کردار کو لے کر زیادہ سوچتے ہیں نہ کہ خیال کرتے ہیں ان فوائد کا جو دنیا کے دوسرے ممالک امریکہ کو پہنچا سکتے ہیں۔

الیکسانڈر، روس:
معاف کریں، میں نے مباحثہ نہیں دیکھا صرف آپکی رپورٹ پڑھی ہے۔ بحرحال درست اور عقلمند طریقوں سے کیری عراق میں ملنے والی امریکی ناکامی کو بش کا حلیہ بگاڑنے کے لیے اچھی طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ ویسے بھی، کیا فرق پڑتا ہے۔ امریکہ کے دوست کہاں ہیں، صرف ساتھی ہیں۔

کیری جیت کر ہاریں گے
 امریکی حکمت کو اہمیت نہ دے کر طاقت کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہیں ایک عقلمند صدر نہیں چاہیے۔
سٹاس، پیرس، فرانس

سٹاس، پیرس، فرانس:
کیری جیت چکے ہیں۔ مگر وہ نومبر میں ہار جائینگے۔ امریکی حکمت کو اہمیت نہ دے کر طاقت کو اہمیت دیتے ہیں۔ انہیں ایک عقلمند صدر نہیں چاہیے۔

گیگھام، آرمینیا:
مباحثہ بش کی آرام دہ جیت پر ختم ہوا۔ تعجب ہے کہ ڈیموکریٹ نے ایسا کمزور امیدوار چنا ہے۔

ماکزم ، بلجیم:
میں نے مباحثہ دیکھا۔ میرے خیال سے کسی بھی عقلمند اور تعلیم یافتہ انسان کو کوئی شک نہیں کہ کیری بڑی زبردست جیت حاصل کرینگے۔ مگر سوال یہ ہے کہ امریکیوں کو کس طرح کی زبان اور وجوہات پسند ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد