BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 June, 2005, 15:11 GMT 20:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان سے پناہ گزینوں کا انخلاء

افغان پناہ گزین
’پاکستان میں اب بھی تیس لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں‘
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے تیس ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں کو نکالنے کا عمل بدھ سے شروع ہوگیا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے واپس افغانستان جانے والے افغانوں کا اندارج شروع کر دیا ہے۔

حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ سیکیورٹی کے بارے میں خدشات کی وجہ سے شمالی وزیرستان کو افغان پناہ گزینوں سے مکمل طور پر خالی کرانا چاہتی ہے۔

ملک کی مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ واقعے اس علاقے میں اس وقت تیس ہزار سے زائد افغان بارہ کیمپوں میں مقیم ہیں۔ انہیں سرکاری حکم کے مطابق یہ کیمپ تیس جون تک خالی کرنے ہیں۔

اگر ان پناہ گزینوں میں سے کوئی واپس افغانستان نہ جانا چاہے تو ان کے پاس دوسرا راستہ پاکستان میں ہی کسی دوسرے مقام پر منتقل ہونا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ایک ترجمان کے بقول پاکستان نے اس نئے مقام کی نشاندہی ابھی تک نہیں کی ہے۔

یو این ایچ سی آر کے مطابق ان کی ٹیموں نے مختلف مقامات پر اُن پناہ گزینوں کے اندراج کا کام شروع کر دیا ہے جو واپس افغانستان جانا چاہتے ہیں۔ یہ عمل ہفتے کے دن تک جاری رہے گا۔

اندراج کروانے والے پناہ گزینوں کو بعد میں بنوں میں امداد سے متعلق سفری دستاویزات جاری کی جائیں گی۔

حکومت پاکستان کے اس فیصلے سے افغان پناہ گزین خوش نہیں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہیں مناسب مہلت نہیں دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مہلت نہ ملنے کی وجہ سے یہ پناہ گزین اپنا مال و متاع اونے پونے داموں پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

گزشتہ مارچ ملک میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق اب بھی پاکستان میں تیس لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ ان میں سے اکثریت نے افغانستان کے حالات کی وجہ سے واپس نہ جانے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔

حکومت پاکستان نے اس قسم کے دیگر قبائلی علاقوں میں کیمپ بھی بند کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے تاہم اس کے لئے تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان کو القاعدہ کے شدت پسندوں سے پاک قرار دینے کے بعد اب حکومت کا کہنا ہے کہ کئی غیرملکیوں نے شمالی وزیرستان میں پناہ لے رکھی ہے۔ ان پناہ گزینوں کو یہاں سے نکالنا بظاہر اس علاقے کو ہر قسم کے غیرملکیوں سے پاک کرنے کے عمل کا آغاز ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد