30 لاکھ افغان پاکستان میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں موجود افغان باشندوں کے بارے میں پہلی بار حکومت اور اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے متفقہ اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اب بھی ملک میں تیس لاکھ سے زیادہ افغان باشندے موجود ہیں۔ حکومتِ پاکستان کے متعلقہ وفاقی سیکریٹری ساجد حسین چٹھہ اور’اقوام متحدہ کا کمیشن برائے پناہ گزین‘ کے نمائندہ گیونیٹ گیوبری کرسٹوس نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعدا وشمار جاری کیے۔ جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں موجود تیس لاکھ سینتالیس ہزار دو سو پچیس افغان باشندوں میں سے چودہ لاکھ اکانوے ہزار سات سو انتیس خواتین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ اٹھارہ لاکھ اکسٹھ ہزار افغان شہری صوبہ سرحد جبکہ بلوچستان میں سات لاکھ تراسی ہزار رہائش پذیر ہیں۔ صوبہ سندھ میں ایک لاکھ چھتیس ہزار سات سو اسی، پنجاب میں دو لاکھ سات ہزار سات سو چون، اسلام آْباد میں چوالیس ہزار چھ سو سینتیس جبکہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں تیرہ ہزار افغان باشندے موجود ہیں۔ جب حکومت پاکستان کے نمائندوں سے پوچھا گیا کہ بظاہر جو تاثر ملتا ہے اس سے تو لگتا ہے کہ کشمیر، اسلام آْباد اور اندرون سندھ میں افغان باشندوں کی تعداد حکومت کی فراہم کردہ اعداد سے کافی زیادہ ہے۔ تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چھوٹے شہروں میں افغان باشندے آتے جاتے رہتے ہیں اور انہوں نے ان شہروں پر زیادہ توجہ دی ہے جہاں مستقل افغان شہری رہائش پذیر ہیں۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے اور حکومت نے ایک مفاہمت کے یاداشت نامے پر دستخط کیے تھے۔ جس میں طے ہوا تھا کہ ’ کمیشن‘ افغان باشندوں کے اعداد وشمار کو قبول کرے گا اور پاکستان حکومت کو یہ ماننا ہوگا کہ تمام افغان باشندوں کی واپسی اقوام متحدہ کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان حکومت نے ملک بھر میں دو مرحلوں میں افغان باشندوں کی مردم شماری کی جس کے لیے اخراجات اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے نے فراہم کیے اور مردم شماری کی نگرانی بھی کی۔ دسمبر سن انیس سو اناسی میں سویت یونین کے افغانستان میں آنے کے بعد لاکھوں افغان باشندے پاکستان آگئے تھے اور ان کے اعداد وشمار کے متعلق حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پناہ گزینوں کے درمیان ابتدا سے ہی اختلاف رائے رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے کے مطابق مارچ سن دوہزار دو سے اب تک پاکستان سے تئیس لاکھ افغان پناہ گزین واپس جا چکے ہیں جبکہ چار لاکھ باقی ماندہ افغان پناہ گزین آئندہ مارچ تک واپس چلے جائیں گے۔ جس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے نمائندے کے مطابق رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے پناہ گزینوں کا کام مکمل ہوجائے گا۔ پاکستان حکومت کی جانب سے افغان شہریوں کی حالیہ شماری کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ پچاس لاکھ سےزیادہ افغان باشندے پاکستان میں آگئے تھے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ جب تک ساڑھے تیس لاکھ افغان شہری پاکستان میں موجود ہیں اس وقت تک ان کے وسائل پر ایک بہت بڑا دباؤ رہے گا۔ اقوام متحدہ کی نمائندہ نے بتایا کہ تیس لاکھ افغان باشندوں میں سے جو مستقبل قریب میں واپس جانا نہیں چاہتے ان کے بارے میں وہ پاکستان حکومت سے نیا طریقہ کار تشکیل دینے پر بات چیت کر رہے ہیں۔ ایک سوال پر ساجد حسین چٹھہ نے کہا کہ جن افغان باشندوں نے پاکستان کے کمپیوٹرائیز شناختی کارڈ حاصل کرلیے ہیں ان کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ البتہ ان کے مطابق پاکستان کے قوانین کے مطابق جو بھی افغان شہری درخواست دینا چاہیں، حکومت اس پر قانون کے مطابق غور کرے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||