پناہ گزین کیمپوں کی بندش کا ارداہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے افغانستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کو بتایا ہے کہ وہ پندرہ جون تک شمالی وزیرستان میں قائم افغان پناہ گزینوں کے بارہ کیمپ بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کیمپوں میں اس وقت اکتیس ہزار پناہ گزین مقیم ہیں۔ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر کے بیان کے مطابق پاکستان نے اسے اپنے اس فیصلے سے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران آگاہ کیاآ اس اجلاس میں افغان اہلکار بھی شریک تھے۔ افغان سرحد پر واقع قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پندرہ جون تک بند کیے جانے والے کیپموں میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے پاس اس سلسلے میں دو راستے ہوں گے۔ وہ یا تو واپس افغانستان جا سکتے ہیں یا پھر پاکستان میں ہی کسی دوسرے کیمپ میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ یہ تمام کیمپ کافی پرانے بتائے جاتے ہیں اور مختلف وقتوں میں گیارہ ستمبر کے واقعات سے پہلے قائم ہوئے تھے۔ پاکستان نے یو این ایچ سی آر کو یہ تجویز بھی دی ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو وطن لوٹنے کی ترغیب دینے کی غرض سے انہیں تین ماہ کا اضافی راشن مہیا کریں۔ پاکستانی حکام کے مطابق وہ مرحلہ وار قبائلی علاقے میں مزید کیمپس بھی بند کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سال کے اواخر تک پشاور میں واقعے کچا گڑھی کیمپ بھی بند کر دیا جائے گا۔ اس کیمپ کی آدھی سے زیادہ آبادی پہلے ہی وطن واپس لوٹ چکی ہے۔ پاکستان میں ایک حالیہ سروے کے مطابق اب بھی تیس لاکھ افغان تقریبا ڈیڑھ سو کیمپوں کے علاوہ شہری اور دیہی علاقوں میں موجود ہیں۔ پاکستان اگرچہ پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کا پابند ہے لیکن وقتا فوقتا کیمپوں کی بندش سے اس کی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ تمام پناہ گزینوں کی واپسی کا خواہاں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||