افغان پناہ گزینوں کی مردم شماری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی صحیح تعداد جاننے کے لئے آج ملک بھر میں گنتی شروع ہوئی ہے۔ دس روز تک جاری رہنے والی اس مردم شماری میں اُن افغانوں کی گنتی کی جائے گی جو گزشتہ پچیس برسوں کے دوران پاکستان آئےہیں ۔ اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر اس عمل میں پاکستان حکومت کی مدد کر رہا ہے۔ تقریبا دو ہزار سرکاری ملازمین دو رکنی ٹیموں کی شکل میں یہ کام کریں گے اس منصوبے پر ساڑھے سات لاکھ ڈالر کی رقم خرچ ہوگی۔ حکومت پاکستان کو امید ہے کہ اسے پہلی مرتبہ ملک میں موجود افغان پناہ گزینوں کی درست تعداد معلوم ہوسکے گی۔ اس گنتی کے دوران افغانوں سے یہ سوال پوچھے جائیں گے کہ وہ پاکستان کب آئے، ان کا تعلق کہاں سے ہے، وہ کہاں رہ رہے ہیں، ان کا موجودہ روزگار اور واپسی کے بارے میں ان کے ارادے کیا ہیں۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کی تعداد تیس لاکھ ہے جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق ان میں سے دس لاکھ پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس گنتی کے نتائج ایک ڈیٹا بیس میں جمع کئے جائیں گے اور ابتدائی اعداوشمار مارچ میں دستیاب ہوسکیں گے۔ یہ اعداوشمار آئندہ برس پاکستان، یو این ایچ سی آر اور افغان حکومت کے درمیان پناہ گزینوں کی رضاکاروانہ واپسی کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد باقی رہ جانے والے افغانوں کے بارے میں پالیسوں کی تیاری میں مدد دے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||