غیرقانونی طور پر داخلہ، افغان گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے چمن میں پچیس افغانیوں کو غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہونے کے الزام مں گرفتار کیا ہے۔ بعد میں تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ لوگ پاکستان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈوں پر حج کے لیے جانے والے تھے۔ کوئٹہ میں ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اکبر بلوچ نے بتایا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق افغانستان کے علاقہ ہلمند سے ہے اور انہیں ایک افغان ایجنٹ پاکستان کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر حج کے لیے بھیج رہا تھا۔ ایجنٹ نے ان لوگوں سے ایک لاکھ دو ہزار روپے سے لیکر ایک لاکھ دس ہزار روپے تک وصول کیے ہیں اور انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان کے لیے پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنوائے گا اور پھر انھیں ٹیلیفون پر اطلاع دے گا۔ ٹیلیفون موصول ہونے کے بعد یہ پچیس لوگ آج افغانستان کے شہر سپین بولدک سے چمن داخل ہوئے تو انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ اکبر بلوچ نے بتایا ہے کہ ایف آئی اے کے حکام اس بارے میں مزید تفتیش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ تیار کرنے والے محکمے اور پاسپورٹ بنانے والے ادارے میں کون لوگ ان کی معاونت کر رہے ہیں۔ ان افغانیوں نے بتایا کہ افغانستان ایک غریب ملک ہے اور وہاں سے حج پر وہ نہیں جا سکتے اس لیے ہلمند میں موجود کچھ لوگ پاکستان کے کوٹے سے انہیں پرائیویٹ سکیم کے تحت حج پر بھجوانے کے انتظامات کر دیتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کچھ لوگ پہلے روانہ ہو چکے ہیں اور انہوں نے بھی کراچی سے حج کے لیے جانا تھا۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال یہاں بلوچستان میں لوگوں نے شکایت کی تھی کہ کئی افغانی ان کے کوٹے پر حج کے لیے چلے جاتے ہیں اور پاکستانی رہ جاتے ہیں۔ گرفتار ہونے والے افغانیوں میں بڑی عمر کے بزرگ شامل ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ پہلے افغان مہاجر کے طور پر یہاں پاکستان میں رہائش پزیر تھے اور حج پر جا چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||