BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2003, 08:06 GMT 13:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک سو بیس افغان وطن واپس

افغان مہاجرین
گزشتہ دو ہفتے میں بلوچستان میں غیر قانونی مقیم پانچ سو افغانوں کو گرفتار کیا گیا ہے

بلوچستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کوزبردستی وطن واپس بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے اور سنیچر کے روز لگ بھگ ایک سو بیس باشندوں کو چمن کے راستے پاک افغان سرحد کے پار افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجریں اور پاکستان میں مقیم افغان باشندوں نے حکومت کی اس کاروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ دو ہفتوں میں بلوچستان پولیس نے تقریبا پانچ سو چالیس افراد کو گرفتار کیا ہے جنہیں عید سے پہلے افغانستان واپس بھیجنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق گرفتار ہونے والے افغان باشنوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان شعیب سڈل نے کہا ہے کہ سنیچر کے روز ایک سو بیس افغان باشندوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا ہے جبکہ دیگر گرفتار باشندوں کو اتوار اور پیر کے روز بھیجا جائے گا۔

انھوں نے کہا ہے کہ یہ کاروائی صرف ان غیر ملکیوں کے خلاف کی گئی ہے جو غیر قانونی طور پر بلوچستان میں مقیم ہیں۔

درایں اثناء اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے کوئٹہ میں انچارج کوامے بوفو نے کہا ہے کہ ان کے ادارہ نے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعلیٰ سطح پر حکومت پاکستان سے بھی رابطہ قائم کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس معاملے کو اگلے ماہ دبئی میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس میں بھی اٹھایا جائے گا۔

اس اجلاس میں پاکستان افغانستان اور یو این ایچ سی آر کے نمائندے شرکت کریں گے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ان افغان باشندوں کو فارن ایکٹ کے تحت گرفتار نہیں کرنا چاہیے اس سلسلے میں گرفتار ہونے والے افغانوں کے رشتہ داروں نے بھی آواز بلند کی ہے اور کہا ہے کہ بغیر کسی تنبیہ کے اچانک کاروائی کرنا غلط ہے۔

انھوں نے کہا ہے ان لوگوں کو روٹی اور آٹا خریدتے وقت گرفتار کیا گیا ہے۔ ’چاہیے تو یہ تھا کہ اقوام متحدہ کے اصولوں کے تحت باقاعدہ اعلان کرکے اور تحقیق کے بعد کاروائی کی جاتی۔ یہاں پاکستان میں افغانوں کی نسلیں جوان ہوئی ہیں جنسے یا تو شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات گم گئے ہیں یا کئی نوجوانوں کے شناختی کارڈز بنے نہیں ہیں۔ ان کی پیدائش بھی پاکستان میں ہوئی ہے۔‘

کوئٹہ میں افغان مہاجریں کے محکمہ کے کمشنر بریگیڈیئر ممتاز علی راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی کو غیر قانونی طور پر رہنے کی اجازت نہیں ہے اس بارے میں کاروائی جاری رہے گی۔

تاہم یہاں یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ یو این ایچ سی آر کی مداخلت کے بعد گرفتاروں کا سلسہ روک دیا گیا ہے اس بارے میں جب انسپکٹر جنرل پولیں شعیب سڈل سے رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ گرفتاریوں کا سلسلہ عید کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد