مذاکرات کے بعد چمن روڈ بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چمن میں قبائل اور انتظامیہ کے ما بین مذاکرات کے بعد سڑک ٹریفک کے لیے اور پاک افغان سرحد آمدو رفت کے لئے کھول دی گئی ہے ۔ ضلعی رابطہ افسر حافظ شیر علی نے بتایا ہے کہ قبائل کے ساتھ مذاکرات میں انھیں یقین دلایا گیا ہے کہ ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کر لیے جائیں گے۔ قبائلی رہنما جیلانی خان کی گرفتاری کے حوالے سے مذاکرات سکیورٹی فورسز کے متعلقہ حکام سے کرائے جائیں گے جہاں اس مسئلے کو حل کر دیا جائے گا۔ جیلانی خان پر حکومت اور سکیورٹی فورسز کے خلاف عوامی مقامات پر بیان دینے پر بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انھیں گزشتہ روز کرائمز برانچ کے اہلکاروں نے گرفتار کرکے کوئٹہ پہنچا دیا تھا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ چمن میں ایک زمین کے ٹکڑے پر جیلانی خان اور ان کے قبائل کا یہ موقف ہے کہ یہ زمین قبائل کی ہے جبکہ انتظامیہ کے مطابق یہ وفاقی حکومت کی پراپرٹی ہے جو اس وقت فوج کے حوالے ہے۔ چمن میں مارملنگ کی زمین پر بھی اسی طرح کا تنازعہ رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||