مبینہ پاکستانی پناہ گزین آسٹریلیا بدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلیا میں چار سال تک سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک مبینہ پاکستانی خاندان کو پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔ آٹھ افراد پر مشتمل اس خاندان کا دعوی ہے کہ اس کا تعلق افغانستان کی ہزارہ قوم سے ہے اور ملک کی شیعہ اقلیت ہونے کی وجہ سے اس وقت کی طالبان حکومت نےانہیں اذیت کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم آسٹریلیا کی حکومت کا اصرار تھا کہ یہ لوگ غلط بیانی کر رہے ہیں اور اصل میں پاکستانی ہیں۔ علی اور رقیہ بختیاری چار سال تک سیاسی پناہ کی جنگ لڑتے رہے ہیں لیکن آسٹریلین امیگریشن حکام کو قائل نہ کر سکے۔ ان کے دو بیٹوں نے دو سال قبل کیمپ سے فرار ہوکر میلبورن میں برطانوی ہائی کمیشن سے پناہ مانگی تھی۔ اس خاندان کو دو ہفتے قبل ملک کے جنوب میں منتقل کر دیا گیا تھا تاکہ وہاں سے انہیں خفیہ طور پر ڈی پورٹ کیا جا سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||