پاکستان میں افغان ووٹروں کا اندراج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے پاکستان میں افغان ووٹروں کا اندراج یکم اکتوبر سے تین اکتوبر تک جاری رہے گا اور نو اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پاکستان اور ایران میں افغانستا ن کے صدارتی انتخابات کی ذمہ داری انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کو دی گئی ہے۔ ان انتخابات کے لیے پاکستان میں ووٹروں کے اندراج کے لیے لگ بھگ ایک ہزار مراکز قائم کیے جائیں گے۔ یہ مراکز سرحد اور بلوچستان کے پناہ گزینوں کے کیمپوں کے علاوہ کوئٹہ اور پشاور شہر میں بھی قائم کیے جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت کوئی گیارہ لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں جن میں سے پانچ لاکھ کے لگ بھگ بلوچستان میں ہیں۔ کوئٹہ شہر میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ کوئٹہ میں اخباری کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے تنظیم کے اس منصوبے کے انچارج رچرڈ ایٹووڈ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مراکز کے قیام کے لیے سخت حفاظتی انتطامات کیے جائیں گے اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے رابطہ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس سارے عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کے لیے ساڑھے تین ہزار افراد بھرتی کیے جائیں گے۔ ووٹروں کے اندراج کے لیے مراکز ایسے مقامات پر قائم کیے جائیں گے جہاں روزانہ دو سو ووٹروں کا اندراج ہو۔ انھو ں نے کہا ہے کہ اس وقت افغان پناہ گزینوں کی تعداد کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی اعداد و شمار پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یہ تنظیم یہاں پاکستان اور ایران میں اقوام متحدہ کے افغانستان کے لیے مشن اور افغانستان حکومت کے الیکشن کمیشن کےلیے کام کرے گی۔ کوئٹہ میں افغان مبصر اور افغان اساتذہ کی تنظیم کے نمائندہ سخی مصرف نے کہا ہے کہ اتنے کم وقت میں ووٹروں کا اندراج اور پھر ووٹر لسٹوں کا آویزاں کرنا اور ان پر اعتراضات اور شکایات کو دور کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے اور اس طریقے سے دھاندلی کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ بیشتر مہاجرین یہاں روزانہ مزدوری کرتے ہیں اوراندراج کے لیے بہت کم لوگ وقت نکال پائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||