افغان قصابوں کی مقبولیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قربانی چاہے بکرے کی ہو ،بیل کی، یا کسی اور جانور کی قصاب کے ذکر کے بغیر اس کی تکمیل ممکن نہیں۔ عید قربان کے دن جب قریب آتے ہیں تو لوگ جہاں قربانی کی جانوروں کی تلاش میں مصروف ہو جاتے ہیں وہیں قصابوں کی بھی بُکنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اور ایسے قصابوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے، جو وقت کے پابند ہوں اور محنتی بھی۔ ہمارے معاشرے میں افغانوں کو محنتی بھی تصور کیا جاتا ہے اور ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ افعان نسبتاً کم پیسوں میں کام کرنے پر رضامند بھی ہو جاتے ہیں۔ انہی خصوصیات کی وجہ سے افعان قصابوں کی ڈیمانڈ میں کافی اصافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اٹک شہر میں جہاں افغان کافی بڑی تعداد میں آباد ہیں ، ایک اندازے کے مطابق دو سو سے ڈھائی سو کے قریب افعان قصاب عید کے موقع پر صرف اٹک شہر میں قربانی کے دنوں میں قصاب کا کام کرتے ہیں۔ عید کے دنوں میں افعان قصابوں کی بڑھتی ہوئی ڈیمانڈ سے علاقے کے مقامی قصاب کچھ پریشان نظر آتے ہیں۔ ایسے ہی ایک قصاب محمد اقبال کا کہنا ہے کہ وہ ایک پیشہ ور قصاب ہیں، اور پچھلے پندرہ بیس سال سے اس پیشے سے وابسطہ ہیں۔ محمد اقبال کا کہنا ہے کہ وہ گائے اور بیل کی قربانی کے دو ہزار سے ڈھائی ہزار روپے لیتے ہیں اور بکرے کو ذبح کرنے کے چار سو سے پانچ سو روپے لیتے ہیں، جبکہ عید کے دنوں میں قصاب بننے والے افغانی آٹھ سو سے ایک ہزار روپے میں گائے اور بیل کو ذبح کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اُن کی مانگ میں بہت کمی آ جاتی ہے۔ اور کم پیسوں کی وجہ سے لوگ افغان قصابوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ محمد اقبال کا مزید کہنا تھا کہ ایک پیشہ ور قصاب اور پارٹ ٹائم قصاب کے گوشت کاٹنے میں بھی بہت فرق ہوتا ہے۔ پیشہ ور قصاب کبھی بھی گوشت کو ضائع نہیں کرتا جبکہ یہ عام افغان قصاب پیسے تو کم لیتے ہیں مگر گوشت بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ محمد حبیب جو اپنا قربانی کا جانور ذبح کرانے کے لیے افغان قصاب کو ترجیحح دیتے ہیں کا کہنا تھا کہ افغان قصاب کو پسند کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ وقت پر آ جاتے ہیں اور ایک قصاب اپنے ساتھ تین چار افغانوں اپنی مدد کے لیے بھی لے آتا ہے۔ جس کی وجہ سے کام جلدی ہو جاتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مقامی قصاب اپنی مرضی کرتے ہیں اور اگر اُنہیں روکا جائے تو وہ بُرا مان جاتے ہیں جبکہ افغان قصابوں کے ایسے نخرے نہیں ہوتے۔ افغان قصاب رجب خان اور روزی جان کا کہنا تھا کہ عید کے دنوں میں اُن کا کام بہت اچھا ہو جاتا ہے اور وہ اب تک صبح سے تین گائے اور دو بکرے بھی ذبح کر چکُے ہیں۔ اور عید کے باقی دو دنوں میں بھی وہ کافی مصروف ہیں۔ رجب خان کا کہنا ہے کہ وہ ایک گائے ذبح کرنے کے آٹھ سو روپے لیتے ہیں اور جس طرح مالک کہتا ہے ویسے ہی گوشت بناتے ہیں۔ شاید اسی لیے اُن کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ روزی خان کا کہنا تھا کہ وہ تین بھائی ہیں اور سب کے سب عید کے دنوں میں یہ ہی کام کرتے ہیں۔ محمد اکبر بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنا بیل افغان قصابوں سے ذبح کروایا۔ لیکن وہ اس بار ان سے مطمعن نہیں تھے، اُنہوں نے اپنی اظہار ناراضگی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک تو اس بار جو قصاب آیا وہ ماہر نہیں تھا جس کی وجہ سے اُس نے بیل کو ذبح کرنے میں بہت ٹائم لگایا اور گوشت بھی اچھا نہیں بنایا۔ لیکن اُن کا کہنا تھا کہ سب افغان قصاب ایسے نہیں ہوتے۔ وہ اگلی بار کسی اچھے افغان قصاب کو تلاش کریں گے۔ افغانوں کے بارے میں عام تصور یہ ہی کہ یہ محنت کش ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ہر کہے کو حکم مان کر اپنا کام کرتے ہیں۔ اور ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی شاید یہ ہی سب سے بڑی وجہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||