BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 October, 2004, 07:00 GMT 12:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان مُردوں کی بھی وطن واپسی

تابوت
تابوت علاقے ہی میں تیار کیے جا رہے ہیں
پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے اور صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور کے قریب کچا گڑھی کیمپ کی آبادی بھی وطن واپسی کی وجہ سے کم ہو رہی ہے۔

پشاور کے مضافات میں لاکھوں افغان پناہ گزینوں کا گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے عارضی مسکن کچاگڑھی کیمپ دن بہ دن سکڑتا جا رہا ہے۔

اس کی وجہ افغانستان کے ننگرہار جیسے مشرقی صوبوں سے یہاں آ کر بسنے والے پناہ گزینوں کی بڑی تعداد میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد واپسی ہے۔ اب تک حکام کے مطابق اس کیمپ کے ساٹھ فیصد سے زائد مکین واپس لوٹ چکے ہیں۔

لیکن کئی افغان واپس لوٹتے ہوئے اپنے دفن شدہ رشتہ داروں کو بھی ساتھ لے جا رہے ہیں۔ یہ افغان اپنے رشتہ داروں کو بطور امانت دفناتے اور لوٹتے وقت ساتھ لے جاتے ہیں۔

اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک حکومت کی جانب سے کچا گڑھی کے اس خالی کیمپ کے مقام پر ریگی ماڈل ٹاون نامی ایک بڑی ہاؤسنگ سکیم پر کام کا آغاز بھی ہے۔ اس وجہ سے کئی افغان اپنے عزیزوں کو بقول ان کے بلڈوز ہونے سے بچانے کی خاطر یہ مردے اکھاڑ رہے ہیں۔

کچا گڑھی کیمپ کے قبرستان میں آپ کو کئی ایسی قبریں مل جائیں گی جو تازہ کھودی گئی ہیں۔ ان میں بچوں بڑوں سبھی کی قبریں شامل ہیں۔ کئی لوگ قبروں میں تابوتوں کی حالت خستہ ہونے کی وجہ سے صرف مردے کے باقی حصے ہی لے جا پائے ہیں۔

News image
مردے نکالنے کے بعد قبریں خالی پڑی ہیں

ان مُردوں کے اس سفر کے لئے انہیں تابوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ کچا گڑھی کیمپ میں تابوت تیار کرنے اور فروخت کرنے والی دس بارہ دکانیں ہیں۔ ایسی ہی ایک دکان پر کسی رشتہ دار کے لئے دوبارہ تابوت خریدنے والے فضل قادر سے اس کی وجہ پوچھی تو اس کا کہنا تھا کہ بس خریدنے آئے ہیں، مجبوری ہے۔۔۔ کیا کریں؟ دور لے کر جانا ہے، لاش کابل لے جانی ہے۔ اس لئے خرید رہا ہوں۔ میرا بڑا پیارا بھائی تھا اس لئے اسے ساتھ لیجا رہے ہیں۔ خود واپس اپنے ملک جا رہے ہیں تو اسے کیسے پیچھے چھوڑ دیں۔

کسی کی ضرورت کسی کی روزی بن جاتی ہے۔ کچا گڑھی کیمپ کے باہر سڑک کے کنارے پیلے بھورے رنگوں والے کئی قسموں اور ناپ کے نئے تابوت برائے فروخت نظر آتے ہیں۔

انہیں تیار کرنے والے شکراللہ استاد کی دکان میں داخل ہوئے تو وہ ایک اور تابوت تیار کرنے میں مصروف تھے۔ جب ان سے پوچھا کہ انہیں تابوت بنانا کیسا لگتا ہے تو کہنے لگے کہ یہ تو لوگوں کی ضرورت ہے اس لئے وہ تابوت تیار کرنے کا کام کرتے ہیں۔

’اس کے علاوہ میں کھڑکیاں دروازے بھی بناتا ہوں۔ لیکن یہ تو لوگوں کی ضرورت ہے اس لیے بناتا ہوں۔‘

وہ اس تاثر سے متفق نہیں ہیں کہ زیادہ ہلاکتوں میں ان کا فائدہ ہے۔ ’میں نے یہ کبھی نہیں سوچا ہے۔‘

مردوں کی واپسی کا یہ سلسلہ پناہ گزینوں کی واپسی کے ساتھ گزشتہ دو تین برسوں سے جاری ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ کیمپ کے مکمل طور پر خالی ہونے تک جاری رہے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد