BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 August, 2004, 16:25 GMT 21:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ: 31 ہزار افغان پناہ گزین واپس

افغان پناہ گزین
تین اگست کو ایک سو اڑتیس افغان خاندان کراچی سے واپس روانہ ہوئے
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے متعلق ہائی کمیشن یعنی ’یو این ایچ سی آر‘ نے بتایا ہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ سے پانچ ماہ میں اکتیس ہزار افغان پناہ گزیں واپس افغانستان جا چکے ہیں۔

ہائی کمیشن کے ترجمان کے مطابق اسی سال مارچ میں صوبہ سندھ سے افغان پناہ گزینوں کی رضاکارانہ واپسی کا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔

ترجمان کے مطابق تین اگست کو ایک سو اڑتیس افغان خاندان جو کہ سات سو سینتیس افراد پر مشتمل تھے کراچی سے واپس روانہ ہوئے۔

ہائی کمیشن سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان کے شہر قندوز روانہ ہونے والے عیسیٰ خان کا کہنا تھا کہ وہ اس امید سے واپس جا رہے ہیں کہ انہیں شبرگان میں کسی تیل تلاش کرنے والی کمپنی میں ملازمت مل جائے گی کیونکہ وہ اس علاقہ میں متعلقہ شعبے میں اٹھارہ سال تک کام کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے ساتھ ہی وہاں خانہ جنگی شروع ہوگئی اور ان کو چھ ماہ کام کرنے کے باوجود بھی تنخواہ نہیں ملی اور بھوک کے مارے وہ پناہ گزیں بن گئے۔

عیسیٰ خان کراچی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں تیرہ سال کام کرچکے ہیں اور واپس وطن جاتے وقت ان کا کہنا تھا’خدا کرے وہاں ان کی زندگی بہتر بسر ہو۔‘

کمیشن کے ترجمان کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے کل افغان پناہ گزینوں کی تعداد دو لاکھ بیالیس ہزار دو سو تینتیس ہوچکی ہے۔

قندھار جانے والے بتیس سالہ سعید احمد کا کہنا تھا کہ وہ سات برس کی عمر میں پاکستان آئے تھے اور کراچی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں کام کرنے کے بعد انہیں ہر قسم کے کپڑے سینے کا ہنر آگیا ہے۔ وہ مزید کہہ رہے تھے کہ افغانستان میں ان کی کوئی املاک تو نہیں لیکن وہ ان کے آبا و اجداد کی سرزمین ہے جس لیے وہ واپس جا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے متعلقہ ہائی کمیشن کے کراچی میں قائم مشن کے سربراہ کازو ہیرو کانیکو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ تمام واپس جانے والے چھ سال سے زائد عمر کے افغان پناہ گزینوں کی واپسی کی تصدیق کے لیے پشاور اور کوئٹہ میں قائم کیمپوں میں اندراج کرانا ہوگا۔

مسٹر کانیکو کے مطابق صرف اندراج کرانے والوں کو ہی افغانستان میں داخل ہونے کے بعد فی شخص تین سے تیس امریکی ڈالر فاصلے کی بنیاد پر سفری اخراجات جبکہ آٹھ ڈالر کھانے پینے کی امداد فراہم کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد