پاک افغان طورخم سرحد میں سکول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بارے میں آپ نے تقیناً سن رکھا ہوتا لیکن دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا سکول ہوگا جس میں پڑھنے کے لیے طلباء ’روزانہ‘ پڑوسی ملک سے آتے ہوں۔ آپ کو یقین نہ آئے لیکن ایسا ہی ایک سکول پاکستان اور افغانستان کی طورخم سرحد پر واقع ہے جس کے سو سے زائد طلبہ ایسے ہیں جو روزانہ افغانستان سے پاکستان آتے ہیں اور سکول کا وقت ختم ہونے کے بعد اپنے ملک افغانستان واپس چلے جاتے ہیں۔ اکسفورڈ پبلک سکول کے نام سے موسوم یہ پرائیویٹ تعلیمی ادارہ پاکستان کے قبائلی علاقہ خیبر ایجنسی کے ایک پسماندہ گاؤں باچا مینہ میں قائم ہے جو پاک افغان سرحد کی مشہور گزر گاہ طورخم سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس سکول میں اس وقت آٹھ سو طلبہ زیر تعلیم ہیں جن میں اکثریت افغان مہاجرین کی ہے جو پاکستان کے قبائلی علاقے میں کئی سالوں سے مقیم ہیں جبکہ سو کے قریب وہ طلبہ ہیں جو روزانہ سرحد کے اس پار افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار کے سرحدی علاقوں سے پاکستان آتے ہیں۔
سات سے چودہ سال کی عمر کے ان بچوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ پاک افغان سرحد پر تعنیات دونوں اطراف کے حکام نے ان کو ویزے اور پاسپورٹ کی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈلائن کے نام سے جانی والی چوبیس سو کلومیٹر اس طویل سرحد پر جو بھی حالات ہوں ان علم کے پروانوں کی راہ میں کوئی روکاٹ پیدا نہیں کی جاتی۔ اس سلسلے میں جب سرحد پر مامور ایک پاکستانی افسر سے پوچھا گیا تو اس نے نام نہ ظاہر کرنے کے شرط پر بتایا کہ جو طلبہ افغانستان سے روزانہ پاکستان آتے ہیں ان کے ساتھ حکومت پاکستان کی جانب سے بھرپور تعاون کیاجارہا ہے اور انہیں بغیر کسی ویزہ یا پاسپورٹ کے آنے جانے کی اجازت ہے تاکہ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے طلباء کو کسی قسم کے مشکل کا سامنا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب سے کابل میں حامدکرزئی نے بحثیت جمہوری اور منتخب
افسر کا کہنا تھا کہ کہ گزشتہ پچیس سالہ خانہ جنگی کے ماحول نے جہاں افغانستان کے ہر ادارے کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے وہاں افغان بچے تعلیمی میدان میں بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں جبکہ پاکستان کی یہ خواہش ہے کہ افغان طلبہ ان کے تعلیمی اداروں میں پڑھیں تاکہ وہ تعلیم کی نعمت سے مزید محروم نہ رہیں۔ چند کمروں اور کرائے کی ایک چھوٹی سی عمارت میں قائم سکول ایک تعلیم یافتہ نوجوان قبائلی اور پشتو ادب کے نامور شاعر و فلسفی امیر حمزہ خان شینواری مرحوم کے پوتے سجادعلی شاہ شینواری نے اپریل انیسو پچانوے میں قائم کیا۔ پہلے یہ سکول پرائمری تک تھا لیکن طلباء کی تعداد کے میں اضافے کے ساتھ رفتہ رفتہ سکول کی توسیع ہوتی رہی۔ سکول کے بانی سجادعلی شاہ کہتے ہیں کہ ان کی یہ شدید خواہش ہے کہ اس تعلیمی ادارے کو دسویں جماعت اور پھر ہائر سکینڈری کا درجہ دیا جائے لیکن مالی مشکلات آڑے آرہی ہیں کیونکہ ماہانہ فیسوں کے علاوہ سکول کا کوئی اور ذریعہ آمدن بھی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں افغان طلباء ان کے سکول میں زیر تعلیم رہیں گے جبکہ اس تعداد میں بتدریج اضافہ بھی ہورہا ہے اور ان میں اکثریت ان افغانیوں کی ہے جو پاکستان کے قبائلی علاقے میں رہائش پذیر ہیں۔ سجادعلی شاہ نے سکول میں پڑھائے جانے والے مضامین کے بارے میں بتایا کہ پاکستان کے عموعی نصاب کے علاوہ پشتو کو بطور خصوصی کورس کا حصہ بنایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان طلبہ انگریزی سمجھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں۔ تاہم ان کی کوشش ہے کہ افغان طلباء انگریزی سیکھیں کیونکہ موجودہ دور میں یہ ایک ضرورت بن گئی ہے۔ انہوں نے کہ ہم نے سو روپے ماہانہ فیس مقرر کررکھی ہے جو ہر طالب علم سے وصول کی جاتی ہے لیکن غربت کی وجہ سے اکثر طلباء یہ فیس بھی نہیں دے سکتے کیونکہ زیادہ تر طالب علم مہاجرین ہیں اور ان کے والدین محنت مزدوری کرتے ہیں جس کی وجہ سے کافی سارے طلباء آٹھویں جماعت پاس کرنے سے پہلے پہلے سکول چھوڑدیتے ہیں۔ جو طلبہ سرحد کے اس پار افغانستان کے صوبے ننگرہار کے علاقوں سے آتے ہیں ان میں گردی غوث، غزگئی، گوڑکو، لال پورہ، ھزارنو اور دیگرعلاقے شامل ہیں جن کا شمار سرحد کے قریبی دیہات میں ہوتاہے۔ ان بچوں کے والدین میں اکثریت پاکستان کے سرحدی علاقوں میں محنت مزدوری یا کاروبار کرتے ہیں جو صبح سویرے اپنے بچوں کے ہمراہ گھروں سے پاکستان کی طرف چل پڑتے ہیں۔ ان طلباء میں کئی ایسے ہیں جو کافی دور سے پیدل سکول آتے ہیں۔ ان میں ایک چودہ سالہ طالب علم ہارون شاہ بھی شامل ہے جو چھٹی جماعت میں پڑتا ہے اور ننگرہار کے ایک سرحدی گاؤں غزگئی سے روزانہ پیدل آتا ہے۔ ہارون شاہ کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ ایک طرف سے تین کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے سکول پہنچتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسے مزہ آتا ہے کیونکہ ان کے گاؤں میں بہت کم ایسے لڑکے ہیں جو پاکستان میں پڑھتے ہوں۔ اس نے بتایا کہ سرحد کے گیٹ پر مامور حکام ان سے بہت تعاون کرتے ہیں اور کبھی ہم سے ویزہ یا پاسپورٹ کے بارے میں نہیں پوچھا۔ طالب علم نے بتایا کہ سرحد کے آرپار اکثر اوقات اقوام کے مابین تلخیں ہوتی ہیں جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں لیکن ہمیں کبھی کسی نے نہیں روکا۔ تمام طلباء کے ساتھ دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے بڑا تعاون کیا جارہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||