افغانستان کی پہلی خاتون گورنر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں خواتین کے امور کی سابق وزیر حبیبہ سرابی جلد ہی بامیان صوبے کےگورنر کے عہدے پر فائز ہونے والی ہیں۔ سرابی ملک کے کسی صوبے کی پہلی خاتون گورنر ہوں گی۔ انہیں اس عہدے کے لیے خواتین کی ایک فہرست سے چنا گیا ہے اور اب صدر حامد کرزئی انہیں باقاعدہ طور پر تعینات کریں گے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں حبیبہ سرابی کا کہنا تھا کہ بامیان صوبے کو کئی مشکلات درپیش ہیں جن میں سب سے مشہور معاملہ بدھا کے عظیم مجسموں کا ہے جنہیں طالبان نے سن 2001 میں تباہ کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’غربت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور مجھے تعمیر نو کے مسئلے پر بھی غور کرنا ہوگا تاکہ بے روزگار لوگوں کے لیے ملازمتیں بھی پیدا ہوسکیں‘۔ ’دراصل میں اللہ کی مدد اور بین الاقوامی تعاون سے صوبے کی شکل تبدیل کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے بامیان شہر کے ماسٹر پلان پر بھی کام کرنا ہوگا تاکہ اس کی تاریخی اہمیت اور ورثہ کو سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ طالبان دور میں حبیبہ سرابی افغان صوبے سے بھاگ کر پاکستان آگئی تھیں جہاں وہ کئی برس پشاور میں مقیم رہیں۔ اس دوران کئی مرتبہ انہوں نے چھپ کر اپنے ملک کے دورے بھی کیے۔ سن 2001 میں امریکی حملے اور طالبان دور کے خاتمے کے بعد سرابی کو صدر کرزئی کی کابینہ کے لیے چن لیا گیا۔ جس کے بعد وہ ملک کی ایک نہایت بااثر خاتون کے طور پر سامنے آئیں۔ اب اس نئے عہدے پر فائز ہونے کے بعد انہیں بامیان میں جنگوؤں سے نمٹنے کا چیلنج بھی درپیش ہوگا۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال ’نازک‘ ہے اور یہاں غربت، عدم تحفظ اور تعلیم کی کمی کےمسائل باقی دنیا کی نسبت بدترین صورتحال سے دوچار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||