افغانستان:سردی سے سینکڑوں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں سردی کی حالیہ لہر کے سبب دو سو ساٹھ سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے وہ وسطی افغانستان میں متاثرین تک خوراک اور طبی امداد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ افغانستان میں صحت کے وزیر محمد امین فاطمی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بچے کھانسی، نمونیہ اور پھیپھڑوں کی دوسری بیماریوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کم سے کم ایک سو پانچ افراد بیماریوں سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک سو ساٹھ کے لگ بھگ افراد مٹی کے تودے سرکنے اور دوسرے حادثات کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ گزشتہ دنوں کابل سے کچھ دور ایک طیارہ برفانی طوفان میں پھنسنے کی وجہ سے تباہ ہوگیا تھا اور اس پر سوار ایک سو چار مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سردی سے مرنے والی کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ ملک کے بیشتر علاقے ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||