افغانستان کی غربت، ایک خطرہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ طالبان حکومت کو گرائے جانے کے تین سال بعد بھی افغانستان ایک غریب ملک ہے جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان حکومت کو گرائے جانے کے تین سال بعد میں ملک میں بے روزگاری، صحت اور تعلیم کے مسائل موجود ہیں۔ اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان حالات میں بہتری پیدا نہ ہوئی تو افغانستان ایک بار پھر بدامنی کا شکار ہو سکتا ہے۔ دنیا میں افغانستان سے زیادہ غریب صرف تین افریقی ملک ہیں۔ افغانستان انسانی ترقی کے چارٹ پر دنیا کے ایک سو اٹھہتر ملکوں میں سے ایک سو تھہتروں نمبر پر ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ نے ان کے ملک کی بہت ہی بھیانک تصویر کھینچی ہے اور حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ہر پانچوں بچہ پانچ سال کی عمر سے پہلے ہی فوت ہو جاتا ہے اور عام زندہ رہنے کی اوسط شرح چوالیس سال ہے۔ افغانستان میں بدامنی اور غربت سے سب سے زیادہ متاثر عورتیں ہوئی ہیں اور ہر آدھے گھنٹے میں ایک افغانی عورت زچگی کی پیچیدگیوں کا نشانہ بن جاتی ہے۔ افغانستان میں دنیا کا بدترین تعلیمی نظام ہے اور ملک میں بالغ شرح تعلیم صرف اٹھائیس اعشاریہ سات فیصد ہے۔ منشیات کا کاروبار آج بھی افغانستان کی معیشت کا اہم ستون ہے اور وہ آج دنیا کو منشیات مہیا کرنے والے ملکوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ طالبان کو حکومت سے نکالے جانے کے باوجود جسمانی تشدد آج بھی جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر افغانستان کے حالات نہ بدلے تو وہ پھر ایک غیر محفوظ سلطنت بن جائے گی جہاں نہ صرف اس کے اپنے شہری غیر محفوظ ہوں گے بلکہ وہ دنیا کے لیے بھی خطرہ بن جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||