ہزار بچوں کی ہلاکت کا خدشہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کی ایک امدادی ایجنسی کا کہنا ہے کہ سردی سے مرنے والے افراد خصوصاً بچوں کی تعداد سرکاری اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔ کیتھولک ریلیف سروسز کا کہنا ہے کہ شدید سردی اور خوراک کی کمی کے باعث مرنے والے بچوں کی تعداد ایک ہزار تک ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل افغان حکام نے بتایا تھا کہ دو سو ساٹھ سے زیادہ افراد جن میں زیادہ تر بچے ہیں شدید سردی سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغانستان کے وزیرِ صحت محمد امین فاطمی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بچے سردی کے نتیجے میں نمونیہ،سانس کی نالی میں انفیکشن اور شدید کھانسی کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اترے۔ کیتھولک ریلیف سروسز کے ڈائریکٹر پال ہکس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا:’میرے خیال میں کئی سو یا شاید زیادہ بچے موت کا شکار ہوئے ہیں اور اگر ادویات اور دیگر امدادی سامان نہیں پہنچا تو مزید بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔‘ افغانستان میں گزشتہ دس برس کے دوران یہ شدید ترین موسمِ سرما ہے۔ کیتھولک ریلیف سروسز نے یہ بھی کہا ہے کہ صوبہ غور کےایک ضلع کےسولہ دیہات کےمعائنہ سے پتہ چلا ہے کہ ہر گاؤں میں پانچ برس سے کم عمر کے قریباً پانچ بچے سردی سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا ہے کہ معائنہ ٹیمیں ضلع شاہرک اور دوسرے اضلاع کے دو سو پچاس دیہات تک شدید برف باری کے سبب رسائی حاصل نہیں کر سکیں۔ صوبہ غور کے نائب گورنر اکرام الدین رضائی نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین دن کے دوران شاہرک ضلع میں پینتیس بچوں کی اموات کا پتہ چلا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اکرام الدین رضائی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دوردراز دیہاتوں میں ہزاروں افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ایک بڑے سانحے کو جنم دے سکتا ہے‘۔ ایک اور امدادی ایجنسی ورلڈ وژن کا کہنا ہے کہ صوبہ غور میں اٹھائیس ہزار افراد سردی اور بیماری کا شکار ہیں۔اس امدادی ایجنسی نے علاقے میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||