اب بھی پاکستانی افغانستان جاتے ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل افغانستان کی تعمیرنو کا کام زوروں پر ہے۔ دارالحکومت کابل میں کسی سڑک پر نکل جائیں نئے مکان، نئے پلازہ، شاپنگ سینٹرز، اور دوسری عمارتیں تیزی سے مکمل کی جا رہی ہیں۔ اس معاشی سرگرمی کا نتیجہ یہ ہے کہ افغانستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں صدر حامد کرزئی نے اپنی تقریر کے دوران اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا: ’افغانستان میں اس قدر روزگار دستیاب ہے کہ ہمارے پاکستانی بھائی بھی اب یہاں کام کرنے آتے ہیں۔ پاکستان سے تقریباً چالیس ہزار کارکن یہاں آئے ہیں۔ چین، ترکی، قازاقستان اور دوسرے ملکوں کی کمپنیاں اور ورکرز یہاں کام کر رہے ہیں۔‘ پاکستان سے آنے والے ان ہنرمندوں کی اکثریت کا تعلق صوبہ سرحد سے ہے۔ افغانستان کے لیے پاکستان کے سفیر رستم شاہ مہمند نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ پاکستانی ہنرمند افغانستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بہت سے افغان خود بھی ہنرمند ہیں مگر ان کی بڑی تعداد اب بھی ملک سے باہر ہے۔ رستم شاہ کے مطابق یہ ہنرمند اپنی کوششوں سے یہاں آئے ہیں۔ یہاں آئے پاکستانی کارکنوں کی اکثریت تعمیرات کے شعبہ سے وابستہ ہیں۔ چند پاکستانی کارکنوں سے میری ملاقات فیض محمد کے ڈیرے پر ہوئی۔ اس ڈیرے میں پچاس ساٹھ کے لگ بھگ لوگ رہتے ہیں۔ یہ لوگ دن میں شہر کے مختلف حصوں میں زیر تعمیر عمارتوں میں چنائی، پلستر، شٹرنگ، وائرنگ، پلمبنگ اور بڑھئی کا کام کرتے ہیں اور رات گزارنے کے لیے اسی ڈیرے پر آتے ہیں۔ شٹرنگ کرنے والے بہادر خان نے بتایا کہ ایک تو یہاں روزگار زیادہ ہے اور دوسرے یہاں تنخواہ بھی پاکستان سے دگنی ملتی ہے۔
بعض پاکستانیوں نے پولیس کے رویہ کی شکایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس والے انہیں دس بیس روپے کے لاچ میں بے جا تنگ کرتے ہیں۔ مگر ایک پاکستانی فیض محمد نے کہا کہ وہ تو ویسے ہی پولیس سے ڈرتے ہیں کہ کہیں انہیں اتار کر ان کا تعلق القاعدہ سے نہ جوڑ دیں۔ یہ لوگ مہینہ میں ایک آدھ بار گھر بھی ہو آتے ہیں۔ ان میں سے کئی نے شکایت کی کہ جب وہ پاکستان واپس جاتے ہیں تو تورخم پر موجود سرحدی محافظ انہیں تنگ کرتے ہیں۔ یہ ہنرمند دن بھر کی محنت مزدوری کے بعد جب تھک ہار کر اپنے ڈیرے پر لوٹتے ہیں اور رات کے کھانے کے بعد تیل کا ایک پیپا، گھی کا ایک ڈبہ اور ایک قدرے خوش گلو ساتھی تاج ولی انہیں عشق اور وطن کی یاد کے نغمے سنا کر ان کا دل بہلاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||