منشیات کی پیدوار میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی دہشت گردی کے خلاف مہم سے انسداد منشیات کے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں پوست کی کاشت میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور خطرہ ہے کہ پاکستان میں پوست کو ذخیرہ کرنے کے سٹور اور ہیروئن کی لیبارٹریاں دوبارہ سے جنم لیں گی۔ اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ میجر جنرل ندیم احمد نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ افغانستان میں اس سال پوست ایک لاکھ اکتیس ہزار ہیکٹر پر کاشت کی گئ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2003 سے پاکستان میں بھی پوست کی دوبارہ کاشت شروع ہو گئی ہے جس میں سے تقریبا اسی فی صد فصل کو تباہ کر دیا گیاہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی عدم توجہی اور پاکستان کو اس سلسلے میں قلیل امداد سے اس بات کا خطرہ بڑھے گا کہ پاکستان میں پوست کی کاشت اور افغانستان میں کاشت کی پاکستان کے راستے سمگل کی جائے گی۔ میجر جنرل ندیم نے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اس کاشت اور سمگلنگ کو روکنے کے لئے فضائی اور زمینی نگرانی کا کام کر سکے۔ ملک میں منشیات کے استعمال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ لاکھ سے زائد افراد ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں مگر اب اس میں کمی آ رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق زیادہ سنگین صورتحال انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی ہے جو بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے ہیپٹاٹیٹس اور ایڈز جیسی مہلک بیماریوں کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||