BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 March, 2005, 10:44 GMT 15:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منشیات کی پیدوار میں اضافہ

News image
پاکستان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی دہشت گردی کے خلاف مہم سے انسداد منشیات کے اقدامات متاثر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے افغانستان میں پوست کی کاشت میں خاصا اضافہ ہوا ہے اور خطرہ ہے کہ پاکستان میں پوست کو ذخیرہ کرنے کے سٹور اور ہیروئن کی لیبارٹریاں دوبارہ سے جنم لیں گی۔

اینٹی نارکوٹکس فورس کے سربراہ میجر جنرل ندیم احمد نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ افغانستان میں اس سال پوست ایک لاکھ اکتیس ہزار ہیکٹر پر کاشت کی گئ ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2003 سے پاکستان میں بھی پوست کی دوبارہ کاشت شروع ہو گئی ہے جس میں سے تقریبا اسی فی صد فصل کو تباہ کر دیا گیاہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی عدم توجہی اور پاکستان کو اس سلسلے میں قلیل امداد سے اس بات کا خطرہ بڑھے گا کہ پاکستان میں پوست کی کاشت اور افغانستان میں کاشت کی پاکستان کے راستے سمگل کی جائے گی۔

میجر جنرل ندیم نے کہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ اس کاشت اور سمگلنگ کو روکنے کے لئے فضائی اور زمینی نگرانی کا کام کر سکے۔

ملک میں منشیات کے استعمال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ لاکھ سے زائد افراد ہیروئن کا نشہ کرتے ہیں مگر اب اس میں کمی آ رہی ہے۔ تاہم ان کے مطابق زیادہ سنگین صورتحال انجکشن کے ذریعے نشہ کرنے والوں کی ہے جو بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے ہیپٹاٹیٹس اور ایڈز جیسی مہلک بیماریوں کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد