BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 November, 2004, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان کی پہلی خاتون سراغ رساں
کاکڑ
ملالائی کاکڑ سر سے پاؤں تک برقعہ میں ملبوس ہوکر کام کرتی ہیں
افغانستان میں پولیس فورس میں شامل ہونے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ ملالائی کاکڑ نامی خاتون کی کوششیں ہیں۔ کاکڑ قندہار کی واحد خاتون سراغ رساں ہیں۔

طالبان کے دور میں خواتین کے پولیس میں شامل ہونے پر پابندی تھی۔

کاکڑ کی شہرت کی وجہ وہ واقعہ ہے جس میں انہوں نے ایک مقابلے کے دوران قتل کرنے کی نیت سے آنے والے تین افراد کو ہلاک کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ چوری، جھگڑے اور قتل کے واقعات سے نمٹنا ان کے لیے روز مرہ کا معمول ہے۔

ان کا کہنا ہے ’اگر جرم میں خاتون ملوث ہو تو تفتیش کا کام میرے ذمہ ہوتا ہے‘۔

ملالائی کا کڑ 1982 میں پولیس میں بھرتی ہوئی تھیں۔ ان کے والد اور بھائیوں کا تعلق بھی پولیس سے ہے۔

طالبان دور میں انہیں پولیس کا شعبہ چھوڑنا پڑا تاہم تین سال پہلے طالبان دور کے خاتمے کے بعد پولیس میں ان کی پہلے والی ملازمت بحال کردی گئی۔

کاکڑ کام کے دوران سر سے پاؤں تک برقعہ میں ملبوس ہوتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے انہیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا بلکہ وہ اپنی مرضی سے برقعہ پہنتی ہیں۔

ایک واقعہ کا بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ انہیں اطلاع ملی کہ ایک عورت کو ایک گھر میں دس ماہ سے قید رکھا جارہا ہے۔ ’میں اس گھر میں داخل ہوئی۔ پہلے تو بچوں نے دروازہ کھولنے سے انکار کردیا مگر میں برقعہ میں تھی اور بڑی مشکل سے انہیں یقین دلایا کہ میں ان کی خالہ ہوں۔ انہوں نے مجھے اندر آنے دیا۔ اس گھر میں ایک عورت کے پاتھ اورپاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ اس کا چھوٹا بیٹا بھی اسی طرح جکڑا ہوا تھا۔ میں کافی جدوجہد کے بعد اسے قید سے نجات دلانے میں کامیاب ہوسکی۔ یہ واقعہ میں اور میرے ساتھ موجود افسران کبھی نہیں بھول سکیں گے۔ اس عورت اور بچے کو ایک سال سے اسی حالت میں رکھا جارہا تھا اور وہ صرف روٹی اور پانی پر زندہ تھے۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ پہلے اپنے موجودہ شوہر کے بھائی کی بیوی تھی۔ جب ان کے تعلقات خراب ہوئے تو اس نے اسے طلاق دے دی۔ وہ گھر سے اپنا سامان اٹھانے آئی تھی جب اسے وہاں ایک پنجرے میں قید کردیا گیا‘۔

ملالائی کاکڑ کہتی ہیں کہ وہ اپنے کام سے بہت خوش ہیں اور قندہار کے لوگ انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد