افغان پناہ گزینوں کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور سے اٹھانوے افغان مہاجرین کا ایک قافلہ سوموار کی شام اپنے وطن واپس جانے کے لیے روانہ ہوگیا ہے ۔لیکن دوبارہ پاکستان کی طرف ہجرت کا خوف ان کے ساتھ سفر کر رہا ہے ۔ قافلے کے بوڑھے سربراہ نے کہا ہے کہ انہیں امن اور اپنے مکان کی امید دلائی گئی ہے ۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو وہ ایک بار پھر پاکستان واپس لوٹنے پر مجبور ہوں گے۔ یہ مہاجرین جنگ اور بھوک سے تنگ آکر پاکستان ہجرت کر آئے تھے لیکن پاکستان میں بھی ان کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔ ’افغانستان میں ہم بے گھر ہوگئے تھے تو وہاں ہمیں’چکری‘ کہا جاتا تھا اور پاکستان میں ہمیں’ چنگڑی‘ کہا جانے لگا اور دونوں کا مطلب ایک ہی ہے یعنی خانہ بدوش۔۔۔۔۔۔۔ اور ان الفاظ کو ادا کرنے والوں کے لہجے کی حقارت بھی دونوں ملکوں میں ایک سی ہی ہے۔‘ لجیر خان بڑے اعتماد کے ساتھ ان حالات کو بیان کر رہا تھا جو اسے اور اس جیسے بے شمار دیگر افعانیوں کو جھیلنے پڑے۔ ’ابھی دس روز قبل یہاں ہماری کپڑے اور بانسوں کی جھوپنڑیاں تھیں ‘ اس تقریب کے ایک منتظم تجمل خان نے بتایا کہ گرمیاں آگئی ہیں اور اب ان افغانوں کی واپسی میں تیزی آجائے گی ۔ ’غربت تنگدستی اور بیماری میں جب گرمی کی آفت شامل ہوتی ہے تو اکثر افغانوں کی ہمت جواب دیتی ہے اور اگر ان کی مدد کی جائے تو وہ واپسی کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کاریتاس کے ایک عہدیدار تجمل جان نے بتایا کہ ’خاص طور پر پنجاب میں آباد ہونے والے افغانیوں کا ایک بڑا مسئلہ زبان بھی ہے۔ یہ لوگ پنجابی یا اردو نہیں بول سکتے اور اس کے باعث مزدوری بھی نہیں ملتی اور فاقے ہی مقدر بنتے ہیں اب یہ واپس جائیں گے تو شاید حالات ان کے لیے بہتر ہوجائیں ‘۔ اس قافلے میں ایک چھ سالہ بچی ایسی بھی تھی جس کی آنکھ جنگ کے دوران ضائع ہوگئی تھی اور ایسے بھی گھرانے تھے جو اپنے مال اسباب کے علاوہ اپنے پیاروں کی جانیں گنوانے کے بعد پاکستان آئے تھے۔ ایک اسی سالہ بوڑھے افغانی شاہ سوار نے افغانستان چھوڑنے کی وجوہات بیان کرتے ہوۓ کہا کہ رشید دوستم اس کے خاندان کے جوان مردوں کو زبردستی اپنی فوج میں بھرتی کرکے لے جاتا تھا اور جب اس کے قبیلہ کے پندرہ جوان زبردستی کی اس جنگ میں لڑتے ہوۓ مارے گئے تو وہ باقی لوگوں کو لے کر عورتوں بچوں سمیت لاہور آگیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہجرت کوئی آسان کام نہیں ہے ۔یہاں بھی حالات کچھ اتنے بہتر نہیں ملے غربت نے پیچھا نہیں چھوڑا تھا لیکن کیا کرتے ادھر (افغانستان میں) لڑائی تھی، موت تھی۔ یہاں(پاکستان میں) کم از کم زندہ تو رہے ۔ اس سال اپریل کے آغاز سے لاہور سے افغانوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور یہ تیسرا اور سب سے بڑا قافلہ ہے ۔ لاہور میں تعینات امریکی قونصلر مس ڈی بورا زی گراؤٹ نے اس قافلے کی الوداعی تقریب میں اخبار نویسوں سے کہا کہ ’افغانستان کے لوگ بڑے باہمت اور محنتی ہیں۔ انہوں نے بڑی بہادری سے مشکلات کا سامنا کیا انہوں نے ان کے سفر کی مشکلات کا حوالے دیتے ہو کےکہا کہ’یہ انکی آخری مشکل ثابت ہوگی ‘ ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||