ایک لاکھ افغان پناہ گزین واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کے ترجمان نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین ماہ میں پاکستان سے ایک لاکھ سے زیادہ افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا ہے۔ بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں جیک ریڈن نے کہا ہے کہ گزشتہ مارچ سے مئی کے دوران ایک لاکھ افغان باشندوں کو واپس ان کے وطن بھیجا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال چار لاکھ افغان شہریوں کو رضا کارانہ طور پر واپس ان کے ملک بھیجنے کا حدف حاصل کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق مارچ سن دوہزار دو سے اب تک چوبیس لاکھ افغان باشندوں کو رضا کارانہ طور پر پاکستان سے افغانستان پہنچایا گیا ہے۔ جو کہ ان کے بقول دنیا میں پناہ گزینوں کی واپسی کی اب تک سب سے بڑی کارروائی ہے۔ جیک ریڈن نے اپنے بیان میں بتایا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایک لاکھ ایک ہزار دو سو چوبیس افغان شہری جو واپس وطن گئے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ یعنی اڑتالیس ہزار نو سو سڑسٹھ صوبہ سرحد سے گئے ہیں۔ جبکہ ان کے مطابق 27168 بلوچستان سے، 13627 پنجاب اور اسلام آباد سے اور 11462 افغان پناہ گزینوں کو صوبہ سندھ سے واپس افغانستان روانہ کیا گیا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی ایک سہ فریقی معاہدے کے تحت ہو رہی ہے جس پر اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے، پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں نے دستخط کر رکھے ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے اور حکومت پاکستان نے پاکستان میں رہائش پذیر افغان شہریوں کا ایک مشترکہ سروے کیا تھا جس کے مطابق تیس لاکھ افغان باشندے اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ ترجمان نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ ماہ تک افغان باشندوں کی خاصی تعداد واپس چلی جائے گی کیونکہ حکومت پاکستان نے قبائلی علاقوں میں قائم پناہ گزینوں کے کیمپ تیس جون کو بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی وزیرستان کے کیمپ میں رہائش پذیر تیس ہزار افغان پناہ گزینوں کو پاکستان حکومت نے پیشکش کی ہے کہ وہ یا تو اقوام متحدہ کے ذریعے واپس افغانستان چلے جائیں یا پاکستان میں ہی کہیں اور جا بسیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||