’اوکاڑہ تنازعہ، انتظامیہ بے بس‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹ میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوکاڑہ ملٹری فارم کی صورتحال سے نمٹنے میں انتظامیہ کلی طور پر غیر مؤثر ثابت ہوئی اور ضلعی ناظم اور پولیس سربراہ بے یارو مددگار پائے گئے۔ پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق فنکشنل کمیٹی نے اوکاڑہ ملٹری فارم میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق منگل کے روز ایوان میں ایک رپورٹ پیش کی۔ واضح رہے کہ اوکاڑہ ملٹری فارم کے کسانوں اور فوج میں کئی برسوں سے جھگڑا چلا آرہا تھا کہ بٹئی نظام کو ’کنٹریکٹ سسٹم، میں تبدیل نہ کیا جائے۔ برسوں سے چلے آنے والے بٹئی نظام کے تحت فصلوں کی پیداوار فوج کے متعلقہ ادارے اور کسانوں میں ففٹی ففٹی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی رہی ہے۔ جبکہ نئے متعارف کرائے گئے’کنٹریکٹ سسٹم، کے تحت کسانوں کو مزدوری دی جاتی ہے۔ کسانوں نے نئے نظام کی مخالفت کی جس پر فریقین میں تناؤ پیدا ہوا اور کسانوں نے بھرپور احتجاج کیا۔ مسلح جھڑپوں میں پانچ کسان ہلاک ہوگئے اور متعدد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ مزاحمت کرنے والے کئی کسانوں کے رشتہ داروں کو فوج کی ملازمت سے برطرف بھی کیا گیا۔ حکومت کے حامی سینیٹر ایس ایم ظفر کی سربراہی میں قائم اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کھل کر یہ نہیں کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں یا نہیں البتہ انتظامیہ اور مزارعین کا موقف پیش کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کئی کسانوں نے کنٹریکٹ سسٹم قبول کرلیا جبکہ چند مفاد پرست عناصر کسانوں کو مالکانہ حقوق دلانے کا جھانسہ دے کر اکساتے رہے۔ جبکہ کسانوں کے نمائندے الزام لگاتے رہے کہ کنٹریکٹ سسٹم متعارف کرا کے انہیں بے دخل کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔جیسا کہ ان کے مطابق بابا فرید شکر شگر ملز کے قریب تین ہزار ایکڑ فارم کے کسانوں کے ساتھ کیا گیا۔ کمیٹی کی رپورٹ میں بعض کسانوں نے کہا کہ انتظامیہ نے کنٹریکٹ سسٹم قبول کرنے کی صورت میں انہیں مکانوں کے مالکانہ حقوق دینے، متبادل زمین فراہم کرنے اور مقدمات واپس لینے کی یقین دہانی کرائی لیکن تاحال اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ مزارعین کے خلاف مقدمات مجبوری کے تحت بنائے گئے جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ عدالتی عمل بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمیٹی کے مطابق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑا تحفظ قانونی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔کمیٹی نے ملٹری فارم کے کسانوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ازالہ نہ ہونے کے بارے میں آواز اٹھانے میں حق بجانب قرار دیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی سفارشات میں تجویز کیا ہے کہ مقدمات کی تحقیقات اوکاڑہ سے باہر کی کسی بھی غیر جانبدار ایجنسی یا پولیس سے کرائی جائے۔ کسانوں اور انتظامیہ میں اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے برطرف ملازمین کی بحالی پر ہمدردانہ غور کیا جائے۔ حکومت تنازعہ حل کرانے کے لیے کسانوں کو متبادل زمین فراہم کرنے سمیت اقدامات اٹھائے ۔ بارہ رکنی سینیٹ کی اس کمیٹی میں حزب مخالف کے رضا ربانی، فرحت اللہ بابر، لطیف خان کھوسہ اور محمد سعید بھی شامل تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||