اوکاڑہ محاصرہ: مویشی خطرے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوکاڑہ میں رینجرز کی طرف سے ہفتے کو شروع ہونے والا انیس دیہاتوں کا محاصرہ تیسرے مسلسل روز بھی جاری رہا جس کی وجہ سے علاقے میں موجود ہزاروں مویشیوں کی زندگیاں چارا نہ ملنے کی وجہ سے خطرے کا شکار ہو گئیں ہیں۔ اوکاڑہ کے نواح میں واقع ملٹری فارمز کے مزارعین کے احتجاج کے اعلان کے بعد ہفتہ کے روز انیس دیہاتوں کو رینجرز نے محاصرے میں لے لیا تھا اور ان کے آنے جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کردی تھی جس سے ڈیڑھ لاکھ کسان محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ اس محاصرے سے مزارعین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کے مویشیوں کی جانیں چارا نہ ملنے کی صورت میں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے وہ اپنے مویشیوں کے چارہ دوسرے علاقوں سے لاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز نے تین دن سے تمام راستے بند کیے ہوئے اور علاقہ میں تمام قسم کی آمدو رفت بند ہے۔ مزارعین جمعہ کے روز اوکاڑہ کی ایک عدالت میں پیش آنے والے واقعات پر احتجاج کررہے تھے جن میں مزارعین پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا اور جن مزارعین کی عدالت نے ضمانت پکی کی تھی انہیں بھی پولیس نے ایم پی او کی دفعہ تین کے تحت گرفتار کرکے ساہیوال جیل بھجوادیا تھا۔ ان میں الطاف احمد، گلزار اور غلام رسول شامل ہیں۔ اس واقعہ پر چک نمبر چار ایل اور چک نمبر بارہ ایل چار میں مزارعین نے رینجرز کی ناکہ بندی کے باوجود جلوس نکالے اور جمعہ کو گرفتار کیے گئے ایک درجن سے زیادہ افراد کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی تھی۔ انجمن مزارعین کے رہنما نور نبی نے کہا ہے کہ حکومت انجمن کے لوگوں اور مزارعین پر سے جھوٹے مقدمات خارج کرے۔ ہفتہ کو پولیس نے ایک سو مزارعین پر مقدمہ درج کرلیا۔ چند روز پہلے انسانی حقوق کے عالمی ادارہ ہیومن رائیٹس واچ نے مزارعین کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||