اوکاڑہ: رپورٹنگ پر صحافی گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوکاڑہ میں ملٹری فارمز پر رینجرز اور مزارعین کے درمیان جھگڑے کی رپورٹنگ کرنے والے اوکاڑہ کے صحافی سرور مجاہد کو تین ایم پی او کے تحت نظر بند کرکے ساہیوال جیل بھجوادیا گیا ہے۔ صحافی کی بیٹی عائشہ سرور کا کہنا ہے کہ جب سے اس کے والد گرفتار ہوئے ہیں اس وقت سے اب تک ان کا اپنے اہل خانہ یا کسی دوست سے رابطہ نہیں ہوا۔ رینجرز او رپولیس سے خوف زدہ اوکاڑہ کے ایک مقامی صحافی نے بی بی سی کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نواۓ وقت کے نمائندہ سرور مجاہد کو مزارعین کی ناکہ بندی کرنے کی رپورٹنگ کرنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے اور زبردست تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ صحافی کا کہنا تھا کہ رینجرز حکام نے دوسرے صحافیوں کو بھی جو ملٹری فارمز پر مزارعین کا موقف معلوم کرنے کے لیے جاتے تھے دھمکیاں دیں کہ ان کے خلاف بھی مقدمات قائم کردیے جائیں گے۔ نواۓ وقت ملک کا وہ واحد قومی اردو اخبار ہے جس نے مزارعین کے خلاف کیے گۓ رینجرز اور پولیس کے اقدامات اور مزارعین کے موقف کی کھل کر رپورٹنگ شائع کی ہے۔ رینجرز نے ایک ہفتہ پہلے اوکاڑہ کے ملٹری فارمز کی ناکہ بندی کی تھی جسے نواۓ وقت نے اپنے نمائندے کے حوالے سے واضح طور پر رپورٹ کیا تھا لیکن رینجرز نے بعد میں دیہاتوں کی ناکہ بندی کرنے کی تردید کی تھی تاہم مقامی صحافی رینجرز کے موقف کو غلط بتاتے ہیں۔ سرور مجاہد کی بیٹی عائشہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتہ کی رات آٹھ بجے ان کے والد کام پر سے گھر واپس آۓ تھے اور کپڑے تبدیل کررہے تھے کہ کچھ لوگ ان سے ملنے آگئے اور وہ مکان سے باہر جاکر گلی میں ان سے بات چیت کرنے لگے۔ عائشہ کے مطابق ان لوگوں نے ان کے والد کو باتوں میں الجھائے رکھا اور اسی اثنا میں موٹر سائیکل پر سادہ کپڑوں میں ملبوس دو افراد آئے جنہوں نے ان کی کنپٹی پر بندوق رکھ دی اورانہیں گلی کے فرش پر گھسیٹنے لگے۔ لڑکی کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی چیخوں پر وہ اور ان کی والد اوراہل محلہ باہر جمع ہوگئے تو نامعلوم افراد نے ان کی والدہ کی کنپٹی پر بھی پستول رکھ دی۔ صحافی کی بیٹی کا کہنا ہے کہ ان کے والد کو سڑک پر گھسیٹے ہوۓ جب چوک تک لے جایا گیا تو بہاں پولیس کی بھاری نفری گاڑیوں سمیت موجود تھی اور انہیں اٹھا کر ایک گاڑی میں پھینکا گیا جس سے ان کا سر زخمی ہوگیا۔ صحافی کی بیٹی نے کہا کہ اوکاڑہ پولیس اور رینجرز حکام سرور مجاہد کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے اور بالآحر انھوں نے اوکاڑہ کے تحصیل ناظم ندیم عباس کے ذریعے یہ پتا چلا کہ انہیں تین ایم پی او کے تحت نظر بند کرکے ساہیوال جیل میں قید کردیا گیا ہے۔ لاہور میں انسانی حقوق کی تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے صحافی سرور مجاہد کی گرفتاری کی مذمت کی ہے اور انجمن مزارعین نے اس کے خلاف اوکاڑہ کے ملٹری فارمز پر مظاہرے کیے ہیں۔ سرور مجاہد اوکاڑہ کے ملٹری فارمز پر رینجرز اور مزارعین کے درمیان دو سال سے چلنے والے جھگڑے کی رپورٹنگ کرتے آئے ہیں اور انہیں ایک سال پہلے دہشت گردی کے الزام کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا اور بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||