فوجی اراضی کا استعمال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کے روز ایوان بالا یعنی سینیٹ کو وزیر دفاع راؤ سکندر اقبال نے آگاہ کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران (سن انیس سو ننانوے سے سن دو ہزار چار تک)ملٹری فارمز لینڈ، کی تین سو سات ایکڑ زمین گولف کورسز اور فوجی رہائشی اسکیمز کو منتقل کی گئی ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کی سینیٹر رخسانہ زبیری کے سوال پر وزیر دفاع نے پیش کردہ تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ ’ملٹری فارمز لینڈ، کی پچاسی ایکڑ کے قریب زمین گولف کورسز کے لیے منتقل کی گئی ہے‘ جس میں سرکاری معلومات کے مطابق پچیس ایکڑ کے قریب صوبہ پنجاب کے شہر اٹک جبکہ ساٹھ ایکڑ سرگودھا کے فوجی فارمز کی زمین شامل ہے۔ وزیر دفاع کے مطابق ملٹری ڈیری فارم چکلالہ راولپنڈی، کی سینتیس ایکڑ زمین ، ملٹری ڈیری فارم (وی ایس ڈی علاقہ) لاہور کی باون ایکڑ ، لاہور کے ایک اور ڈیری فارم جو کہ ڈیفنس روڈ پر واقع ہے اس کی بیاسی ایکڑ زمین، اور سیالکوٹ کے ملٹری ڈیری فارم کی اکیاون ایکڑ اراضی رہائشی فوجی اسکیموں کے لیے دی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کے سوال پر وزیر دفاع نے ایوان کو آگاہ کیا کہ پاک فضائیہ کی فیصل بیس کراچی کی سات ایکڑ سے زائد زمین سٹی اسکول مینیجمینٹ، کو عارضی طور پر فراہم کی گئی ہے ۔ وزیر کے مطابق یہ زمین پاک فضائیہ کی ہی رہے گی کیونکہ ان کے بقول نہ ہی یہ زمین لیز پر انہیں دی گئی ہے اور نہ ہی انتقال کیا گیا ہے۔ مذکورہ زمین سن انیس سو چورانوے میں دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سٹی اسکول کو زمین فراہم کرنے کے بدلے متعلقہ سکول میں پاک فضائیہ کے ملازمین کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان بھر میں سٹی اسکولوں کا سلسہ وزیر خارجہ خورشید قصوری کی بیگم چلا رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||