سوئی: کپتان سمیت 6 زیرحراست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی حکام نے بلوچستان کے علاقے سوئی کےگیس پلانٹ میں گزشتہ ماہ ایک لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ زیادتی کے الزام میں ایک فوجی کپتان سمیت ڈیفینس سروسز گارڈز کے چھ اہلکاروں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور جب تک یہ تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں ان چھ افراد کی نقل وحرکت پر پابندی رہے گی اور وہ اسوقت ایک جگہ موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کیونکہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں لہذا وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ آیا ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے یا نہیں اور یہ کہ ان لوگوں کو کس جگہ پر رکھا گیا ہے۔ آج پاکستانی اخبارات نے کچھ ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ اس کیس میں ملوث کپتان حماد اور پانچ دیگر فوجی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کو دو اور تین جنوری کی رات کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعہ کو پی پی ایل کی انتظامیہ نے دانستہ چھپایا اور پولیس میں بھی اس کیس کی رپورٹ درج نہیں ہونے دی اور لیڈی ڈاکٹر کو خفیہ طور پر ایک چارٹرڈ طیارے میں کراچی منتل کر دیا گیا۔ اس کیس کے سامنے آنے کے بعد بلوچ ہتھیار بندوں اور فوج کے درمیان شدید تصادم ہوا اور راکٹ حملوں میں سوئی گیس پلانٹ کو بھی کافی نقصان پہنچا۔ اس تصادم میں چار سیکیورٹی اہلکاروں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ گرفتاریاں ایسے وقت ہوئی ہیں جب لیڈی ڈاکٹر کے کمرے سے ملنے والے کونڈم اور بالوں کے نمونے کی ڈی این اے رپورٹ بھی آنے والی ہے۔ اس واقعہ پر ملک بھر خصوصا بلوچستان میں شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ملک کے ایوان بالا سینیٹ میں بھی گزشتہ دو ہفتوں سے یہ مسئلہ زیر بحث آتا رہا ہے اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے جس میں پی پی ایل کی انتظامیہ کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں اس کیس کے مبینہ ملزم کیپٹن حماد کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کو کمیٹی کے روبرو پیش کیا گیاجس کے بعد یہ رپورٹ بالکل بے معنی ہے۔ بلوچستان کی قوم پست جماعتوں نے بھی اس کیپٹن کی گرفتاری تک حکومت سے بلوچستان کے مسئلے پر کسی قسم کی بات چیت کرنے سے انکار کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||