سندھ: غیر محفوظ خواتین امیدوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دونوں مرحلوں میں نو ہزار نو سوستائیس خواتین امیدوار حصہ لے رہی ہیں۔جبکہ اب تک پانچ سو چھیاسٹھ بلامقابلہ کامیاب ہوچکی ہیں۔ سندھ میں جہاں مرد امیدوار مسائل اور عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں وہاں حکومت مخالف خواتین امیدوار بھی خوفزدہ دکھائی دیتی ہیں۔ سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں کراچی سمیت گیارہ اضلاع کی گیارہ ہزار گیارہ سو یونین کونسل میں انتخابات ہورہے ہیں۔ جس میں پانچ ہزار سات سو پچاس سے زائد خواتین امیدوار بھی ہیں۔ پہلے مرحلے کے لیےاٹھارہ اگست کو پولنگ ہوگی جبکہ دوسرے مرحلے میں بارہ اضلاع میں انتخابات ہونگے۔جس کے لیے پچیس اگست کو ووٹنگ ہوگی۔ ان انتخابات میں چار ہزار ایک سو چونتیس خواتین امیدوار ہیں۔ کراچی سمیت اندرون سندھ کے چوبیس اضلاع میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد چونسٹھ لاکھ بہتر ہزار سات سو اکیس ہے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل کی کل اکیس سیٹوں میں سے خواتین کے لیے چھ نشستیں مخصوص تھیں۔ جس میں چار جنرل مسلم خواتین اور دو نشستیں مزدور کسان خواتین کے لیے تھیں۔ جس سے خواتین کی نمائندگی تیتیس فیصد بنتی تھی۔ موجود انتخابات میں یونین کونسل کی کل نشستیں تیرہ ہیں جس میں چار خواتین کے لیے مختص ہیں۔
کراچی میں تین خواتین یونین کونسلوں کے ناظم کی امیدوار ہیں۔ جبکہ اندرون سندھ حیدرآباد اور بدین ضلعوں میں بھی ناظم کی دو دو امیدوار خواتین بھی ہیں۔ پاکستان میں تمام بڑی جماعتوں کے خواتین ونگ موجود ہیں مگر کسی جماعت نے بھی سندھ میں ناظم اور نائب ناظم کے لیے کسی خاتوں کو نامزد نہیں کیا ہے۔ خواتین کے لیے کام کرنے والی این جی او عورت فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نےخواتین کے لیے نشستیں مختص کرکے اپنا کام ختم سمجھ لیا ہے اور خواتین سے کسی قسم کی کوئی معاونت اور رہنمائی نہیں کی جا رہی ہے۔ عورت فاؤنڈیشن کے کوآرڈینیٹر محمد حسن پٹھان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم کو کراچی میں ایک جماعت نے خواتین کے لیے مددگار کیمپ لگانے نہیں دیا ۔جبکہ کندہ کوٹ میں ایک اقلیتی خاتون امیدوار کا فارم اس بناء پر مسترد کیا گیا کہ اس کے حامی نےگذشتہ پانچ برسوں میں اپنا ووٹ نہیں ڈالا۔ بلدیاتی انتخابات میں جہاں جماعتوں میں سخت مقابلہ کا رجحان ہے وہاں گروپ اپنی خواتین امیدواروں کی کامیابی کے لیے سرگرم ہیں۔ محمد حسن کے مطابق انہیں اندرون سندھ سے یہ شکایات بھی مل رہی ہیں کہ کچھ گروپ خواتین امیدواروں کو دستبردار ہونے کے لیے دھمکیاں دے رہے ہیں جبکہ ان کے رشتے داروں کو بھی ہراساں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ انتخابات کے مقابلے میں موجودہ انتخابات میں خواتین کی نشستوں پر زیادہ مقابلہ ہے تحصیل اور ڈسٹرکٹ میں ان کی ووٹ کی اہمیت کی وجہ سے گروپ زیادہ سنجیدہ ہیں۔ پی پی پی خواتین ونگ کی رہنما ایم این اے شگفتہ جمانی کا کہنا ہے کہ شہروں میں ان کی جماعت نے اپنی سرگرم کارکنوں کو امیدوار نامزد کیا ہے مگر اندرون سندھ کچھ مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی خواتین امیدواروں کو ٹھٹہ میں اغوا کیا گیا جن کو برادری کے کہنے پر آزاد کیا گیا۔ جبکہ خیرپور میں امیدواروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
اسی طرح الخدمت گروپ کی خواتین رہنماوں کا الزام ہے کہ ان کی امیدواروں اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ طلعت زھرہ، شہناز بقائی اور فخرالنسا کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں مخالف جماعت کے لوگوں نے ان کی ایک امیدوار کو اغوا کیا جبکہ ایک امیدوار کے شوہر کو اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سنی تحریک کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد ٹاؤن میں ان کی امیدوار شہناز کو اغوا کیا گیا ان کی جوان بچیاں اور معذور شوہر ہیں اس حوالے سے ان کو دھمکیاں دی گئیں۔ اس طرح انہیں زبردستی دستبردار کرایا گیا۔ سندھ میں جہاں عورت پر تشدد اور غیرت کے نام پر خواتین کو قتل بھی کر دیا جاتا ہے وہاں یہ خاتون کونسلر کامیاب ہو کر کیا کریں گی جو انتخابات میں خود ہی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||