’انتخابات سے قبل دھاندلی ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیم نے صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں حکومت مخِالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ انتخابات سے قبل دھاندلی کی جا رہی ہے ۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان یعنی ’ایچ آر سی پی‘ کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اندرون سندھ میں ’نو گو ایریاز‘ بنائے گئے ہیں جہاں مخالفین کو جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انتخابات سے قبل خوف و ہراس کی فضا پیدا کی گئی ہے، اور اس میں نہ صرف امیدوار بلکہ ووٹر اور عام لوگ بھی ڈرے ہوئے ہیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ایچ آر سی پی کے پاس امیدواروں کی کئی شکایات پہنچی ہیں۔ جن میں امیدواروں اور ان کے حمایتیوں کے اغوا، تشدد اور ہراساں کرنے کی شکایات کی موجود ہیں۔ اقبال حیدر کا کہنا تھا کہ یہ تمام شکایات حکمران اور ان کی اتحادی جماعتوں کے خلاف ہیں۔ الیکشن کی مانیٹرنگ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ایچ آر سی پی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ رضاکاروں کی صورتحال دیکھ کر کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’بات عاصمہ جہانگیر یا اقبال حیدر کی نہیں اندرون سندھ میں ہمارے رضاکار بھی ڈرے ہوئے ہیں۔‘ اقبال حیدر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی تنظیموں کے نشانات جاری نہیں کیے ہیں مگر ایک گروپ کے سارے امیدوار ایک ہی نشان سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس عمل کو کس طرح روکا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ بنائے گئے ’نوگو ایریا‘ حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہیں ۔ یہ نوگو ایریاز نہ صرف انسانی حقوق بلکہ آئین کی پامالی کے مترادف ہے۔ اگر اس طرح کے واقعات کو نہ روکا گیا تو حکومت کس طرح غیر جانبدار اور شفاف انتخابات کا دعویٰ کریگی۔ اقبال حیدر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کوئی امیدوار یا اس کا حمایتی قتل یا اغوا ہوگیا تو اس کا کون ذمہ دار ہوگا؟ دوسری جانب سندھ کے وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں امن امان پولیس اور رینجرز کی ذمہ داری ہوگی ، فوج اسٹینڈ بائی پر ہوگی اور اسے بوقت ضرورت طلب کیا جائےگا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کی پابندی بغیر کسی تفریق کے تمام امیدواروں کو کرنی ہوگی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ صوبہ سندھ کے تمام ڈی پی اوز اور ٹی پی اوز کو الیکشن کی مانیٹرنگ کے لیے کلوز سرکٹ کیمرا کا بندوبست کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ ان کیمروں سے معلوم ہوسکے گا کہ کون ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پُرامن، غیرجانبدار اور شفاف انتخابات کے انعقاد پر یقین رکھتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||