BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 August, 2005, 09:43 GMT 14:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجی گارڈز نہیں ہونگے: الیکشن کمشنر

نجی سیکیورٹی گارڈ
صوبائی پولیس سربراہ نے چیف الیکشن کمشنر سے تین ہزار نجی گارڈ مقرر کرنے کی اجازت طلب کی تھی
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر نےصوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پولنگ اسٹیشنوں پر نجی سکیورٹی گارڈ کی تقرری کی درخواست کو رد کردیا ہے۔

کراچی میں پینتیس سو سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔ ہر پولنگ اسٹیشن پر ایک پولیس افسر سمیت 8 اہلکار مقرر کیے جائیں گے۔ افرادی قوت کی کمی کے باعث صوبائی پولیس سربراہ نے چیف الیکشن کمشنر سے تین ہزار نجی گارڈ مقرر کرنے کی اجازت طلب کی تھی جس پر سیاسی تنظیموں کی جانب سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے بتایا ہے کہ کمیشن کو سندھ کے چیف سیکرٹری کی جانب سے ایک درخواست ملی تھی جس میں مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر نجی سکیورٹی گارڈ کی تعیناتی کی درخواست کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس درخواست کو الیکشن کمشنر نے رد کردیا ہے کیونکہ یہ الیکشن کمیشن کی جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی نجی سکیورٹی ایجنسیز کی تنظیم کے سربراہ طارق علی ہاشمی نے بتایا کہ سندھ کے محکمہ داخلہ نے انہیں دس ہزار گارڈ فراہم کرنے کے لیے کہا تھا لیکن اتنی بڑی تعداد میں گارڈ فراہم نہیں کیے جا سکتے۔

ہاشمی کے مطابق کراچی میں ڈیڑھ سو سے زائد نجی سکیورٹی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جن کے پاس پچیس ہزار کے قریب گارڈ موجود ہیں۔

ان کے مطابق حکومت کی جانب سے ان کو اس ضمن میں کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جائیگا۔ بلکہ کمپنیاں خود گارڈوں کو اوور ٹائم دیں گی۔

اپوزیشن جماعتوں نے بھی انتخابات میں نجی سکیورٹی گارڈوں کی تقرری کی مخالفت کرتے ہوئے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ کراچی کے سابق ناظم اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما نعمت اللہ خان کا کہنا تھا کہ نجی سکیورٹی گارڈوں کے لبادے میں ایم کیو ایم کے کارکنان پولنگ اسٹیشنوں کے نگران بن جائیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ انتحابات کی نگرانی کے لیے فوج کا تقرر کیا جائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سکریٹری نفیس صدیقی نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن خاص طور پر پی پی پی اور اے آر ڈی کو نجی گارڈوں کی الیکشن ڈیوٹی پر تعیناتی پر اعتراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طے کرنا مشکل ہو جائےگا کہ مقرر کیے گئے گارڈ غیر جانبدار اور واقعی کسی رجسٹرڈ کمپنی کے ملازم ہیں جبکہ جے یو آئی اور جی یو پی نے بھی نجی گارڈوں کی تقرری کو ایک سازش قرار دیا ہے۔

نجی سکیورٹی ایجنسیز کی تنظیم کے سربراہ طارق علی ان خدشات کو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جو گارڈ مقرر کیے جائینگے وہ کسی ایک ایجنسی کے نہیں بلکہ مختلف ایجنسیوں سے تعلق رکھنے والے ہونگے جن کا نہ کوئی سیاسی تعلق اور نہ ہی مقصد ہوگا اس لیے وہ کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد