مقامی حکومتوں کے چار سال: ایک جائزہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نئے بلدیاتی نظام کی پہلی مدت میں مقامی حکومتوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان چپقلش عروج پر رہی خاص طور پر سندھ اور سرحد میں اس کشمکش کو واضح طور پر محسوس کیا گیا۔ اس چپقلش کی بڑی وجہ صوبوں اور اضلاع میں مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگوں کی موجودگی تھی۔ سندھ میں مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت ہے جبکہ کراچی کی سٹی حکومت جماعت اسلامی کے پاس اور صوبے کے اکثر اضلاع میں پی پی پی کے حامی ضلع ناظمین تھے۔ سرحد حکومت کے خلاف ناظمین نے اجتماعی طور پر استعفے دیے جس پر وفاقی حکومت کی مداخلت پر تنازع کسی حد تک کم ہوا۔ پہلی مدت کی تکمیل پر بعض مقامی حکومتوں پر مالی بے قاعدگیوں کے الزامات لگے خاص طور پر پنجاب میں، جہاں پر قومی اسمبلی کے ایک سو انچاس اراکین نے صدر اور وزیر اعظم کو الگ الگ درخواست دی کہ نئے ٹرم کے انتخابات سے پہلے ضلع ناظمین کا احتساب کیا جائے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پہلی مدت کے دوران ڈیڑھ ہزار کےقریب یونین تحصیل اور ضلع کے ناظمین اور کونسلروں نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی۔ یہ تعداد پنجاب میں سب سے زیادہ رہی۔ پنجاب میں ہی ناظمین نائب ناظمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تحریک کامیاب رہی۔ اس تحریک کے دوران 735 ناظمین اور نائب ناظمین کو ہٹایا گیا جن میں سے ایک سو کے قریب لوگوں کو عدالت سے ریلیف ملا۔ سندھ میں وزیر اعلیٰ نے حیدرآباد کے مخدوم رفیق الزمان، لاڑکانہ کے ضلع ناظم خورشید جونیجو، میرپورخاص کے پیر شفقت شاہ جیلانی، دادو کے ملک اسد سکندر اور جیکب آباد کے شبیر بجارانی کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔ ان میں سے چار ضلع ناظمین عدالت میں چلے گئے جن کو عدالت نے بحال کردیا۔ جب کہ مخدوم رفیق الزمان نے عدالت سے رجوع نہیں کیا۔ سانگھڑ میں پیر پگارا کی حمایت سے جیتنے والے سابق سینیٹر شاہنواز جونیجو کے بیٹے روشن جونیجو کو بعد میں پگارا گروپ نے پیپلز پارٹی کی مدد سے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا۔ سندھ کے اضلاع بدین، میرپورخاص، حیدرآباد، نوابشاہ، خیرپور، جیکب آباد اضلاع میں ایک عرصے تک ضلع ناظمین اور ڈی سی اوز کے درمیاں کشمکش رہی۔ ان اضلاع میں ناظمین کی استعفوں کی دھمکی کے بعد صورتحال کچھ بہتر ہو سکی۔ نئے نظام میں اگرچہ تینتیس فیصد خواتین کو نمائندگی دی گئی تھی لیکن اکثر خواتین کونسلرز کا کہنا تھا کہ ان کی حیثیت شو پیس کی طرح ہے جنہیں صرف دکھانے کے لیے ایوان میں بٹھایا گیا ہے۔ ان کو وہ اختیارات حاصل نہیں ہیں جو دوسرے کونسلرز کو ہیں۔ یہی شکایت اقلیتی اور دیگر مخصوص نشستوں پر منتخب ہوکر آنے والوں کو رہی۔
عام تاثر یہ ہے کہ ضلع حکومتوں اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشمکش عروج پر رہنے کی وجہ سے عام لوگوں کو سہولیات نہ مل سکیں۔ ان چاروں برس کے دوران بڑی بڑی رقومات استعمال نہ ہونے کی وجہ سے واپس ہوگئیں۔ اختیارات کی تفویض کے ضمن میں سندھ میں ستائیس میں سے صرف دس محکموں میں اختیارات تقسیم ہو سکے۔ مختلف سطح کے کونسلرز، اور ناظمین اپنے فرائض اور اختیارات کو نہ سمجھ سکے جبکہ نوکرشاہی اس نظام میں راہ میں رکاوٹ بنی رہی۔ کئی مواقع پر صوبائی و ضلعی حکومتوں کے تنازعات میں قومی تعمیر نو بیورو کے چیئرمین آڑے آئے لیکن جیت ہمیشہ صوبائی حکومتوں کی ہوئی۔ سندھ میں تحصیل ناظمین نے اپنے اختیارات اور تحفظ کے لیے اتحاد بنایا۔ دوسری ٹرم کے لیے سندھ میں سات نئے اضلاع کے قیام کے بعد ملک بھر میں ایک سو دس اضلاع ہیں۔ جبکہ آٹھ شہروں کراچی، لاہور، حیدرآباد، راولپنڈی، فیصل آباد، گوجرانوالہ ، ملتان، پشاور اور کوئٹہ کو سٹی گورنمنٹ کا درجہ دیا گیا ہے۔ سندھ میں ان اضلاع کی تشکیل اور تقسیم خاصی متنازع بنی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے ان کامیاب اور ناکام تجربات کی روشنی میں دوسرے ٹرم کی حکومتیں عوام کو کیا دیتی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||