BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 July, 2005, 20:52 GMT 01:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نئے الیکشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ‘

 رضا ربانی
موجودہ صورتحال جاری رہی تو آئندہ عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ انعقاد ممکن نہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد کرانے کے آئینی تقاضوں کو پورا کرنےمیں ناکام رہا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ انتخابات غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے ذریعے نگراں حکومت کی نگرانی میں کرائے جائیں۔

مرکزی کمیٹی کا اجلاس پارٹی کے وائیس چئرمین مخدوم امین فہیم کی صدارت میں بلاول ہاؤس کراچی میں سنیچر کو منعقد ہوا۔ جس میں ملکی صورتحال پر خاص طور پر بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے غور کیاگیا۔

اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ملک میں غیرجانبدارانہ انتخابات منعقد کرانے کی اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اجلاس کے بعد پارٹی کے جنرل سیکریٹری رضا ربانی نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کا نشانہ اپوزیشن اور خاص طور پر پی پی پی ہیں۔ جس کے لیے ایک چھ نکاتی پری پول دھاندلی کےمنصوبہ پر عمل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبےمیں اضلاع کی تقسیم، تحصیلوں، یونین کونسلوں اور دیہاتووں کی سیاسی بنیادوں پر ازسرنو ترتیب، انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد افسران کی تقرریاں اور تبادلے، کارکنوں اور امیدواروں کی گرفتاریاں، ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے اور دیگر طریقوں سے سیاسی انتقامی کارروایوں کا نشانہ بنانا، امیدواروں اور ان کے تائید و تجویز کنندگان کا اغواء، وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ کی طرف سے انتخابی مہم کے لیے سرکاری فنڈز اور وسائل کا استعمال، اور پریس کو ڈرانا دھمکانا شامل ہیں۔

سینیٹر رضا ربانی نے بتایا کہ پولنگ اسٹیشن روایتی مقامات اور عمارتوں سے تبدیل کر کے حکومت کی حامی جماعتوں اور امیدواروں کی سہولت کے طور پر مقرر کیے گئے ہیں۔

اجلاس نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مستقل چیف الیکشن کمشنر کی عدم موجودگی میں منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات مشکوک ہوجاتے ہیں۔

پی پی پی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ان کی پارٹی کی نظر میں اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو آئندہ عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ انعقاد ممکن نہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے خود مختار اور آزاد الیکشن کمیشن انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی نمائندگی کے ساتھ تشکیل دیا جائے اور ایک غیر جانبدار نگراں حکومت قائم کی جائے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ صورتِ حال جو بھی ہو ہم راہِ فرار اختیار نہیں کریں گے اور بھاگیں گے نہیں۔

دریں اثنا پارٹی کی چئر پرسن بینظیر بھٹو نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دھاندلیوں اور پارٹی کے حامی امیدواروں کی گرفتاریوں و دیگر انتقامی کارروایوں کے بارے میں رٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ سیشن جج کے پاس باضابطہ شکایات درج کرائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد