سندھ: بروقت الیکشن مشکل میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ کے نئے آٹھ اضلاع کی حد بندی، ججوں کی تقرری، اور دیگر ضروری انتظامات نہ ہوئے تو وہاں بلدیاتی انتظامات کرانا مشکل ہو جائےگا۔ یہ بات انہوں نے پیر کے روز کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے بلائے گئے ایک اجلاس میں کہی۔ سرکاری طور پر جاری کئے گئے ایک اعلامیہ کے مطابق جسٹس ڈوگر نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں پرانے شناختی کارڈ ہولڈرز کو بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔ سندھ میں گذشتہ چند ماہ کے دوران سات نئے اضلاع بنائے گئے ہیں۔ جن میں بعض اضلاع کی تقسیم اور حد بندی پر مختلف حلقوں کی جانب سے اعتراضات کئے گئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے نئے اضلاع کی حد بندی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیااور کہا کہ ان اضلاع میں سیشن اور ایڈیشنل سیشن ججز کی تقرری نہ ہونے کی صورت میں وہاں انتخابات نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن شیڈول کا اعلان ہوگیا تو پھر کوئی حد بندی نہیں ہوسکے گئی۔ آئی جی سندھ پولیس اسد جہانگیر نے بتایا کہ اس کی وجہ سے پولیس کے عہدوں پر بھی تقرری نہیں ہو سکی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے اتنباہ پر چیف سیکریٹری فضل الرحمان نے بتایا کہ بعض انتظامی مسائل کی وجہ سے یہ معاملہ التوا کا شکار ہے۔ تاہم آٹھ میں سے سات اضلاع کے لئے سیشن ججز کے آرڈر جاری کردیئے گئے ہیں۔ اور ایک ہفتے کے اندر ان اضلاع کی حد بندی کے انتظامات بھر کردیئے جائیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے انتظامیہ کو ایک ہفتے کی مہلت دی کہ وہ نئے اضلاع میں حد بندی ججوں کی تقرری، اور دیگر ضروری انتظامات مکمل کرلیں۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری فضل الرحمان، آئی جی سندھ پولیس اسد جہانگیر، ہوم سیکریٹری غلام محمد محترم، سندھ کے الیکمشنر علی محمد ہالے پوتہ بھی شریک تھے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ لوکل باڈیز آرڈیننس میں حالیہ ترامیم کے بعد ان کی اور صوبائی الیکشن کمیشن کی ذمیداریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کے انتخابات مقررہ وقت میں شفاف اور غیر جانبدار منعقد ہوں۔ انہوں نے ہدایت کی کے بغیر مزید تاخیر کے یونین کاؤنسل، تحصیل اور ضلعے کاونسل کی حد بندیاں کیں جائیں ورنہ انتخابات نہیں ہوسکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||