BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات: ناظمین کی جگہ منتظمیں

وزیر اعظم سیکریٹریٹ (فائل فوٹو)
ان سفارشات کو آرڈننس کے ذریعے منظور کیا جائے گا
حکومتِ پاکستان نے چاروں صوبوں کی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر کے تمام اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلز میں ناظمین کے انتخاب سے ساٹھ روز پہلے موجودہ ناظمین اپنے عہدوں سے ہٹا دیے جائیں گے اور ان کی جگہ نگران ’ایڈمنسٹریٹر‘ یا منتظمین مقرر کیے جائیں گے۔

قومی تعمیر نو بیورو کے چیئرمین دانیال عزیز نے بدھ کے روز بی بی سی بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ’کیئر ٹیکر‘ یعنی نگران ہر صوبے کا چیف سیکریٹری مقرر کرے گا۔ نگران مقرر ہونے والے سرکاری ملازمین ہوں گے اور ضلعی رابطہ افسر یعنی ’ڈی سی او‘ کو نگران مقرر نہیں کیا جائے گا۔ ناظم کی جگہ مقرر ہونے والے نگران کوئی ملازم بھرتی کرے گا اور نہ ہی کسی ترقیاتی منصوبے کی منظوری دے پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹری، صوبائی بلدیات کے محکموں کے سیکریٹری اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کی تفصیلی مشاورت کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ بلدیاتی نظام کے قانون میں ستتر 77 ترامیم پر اتفاق ہوا ہے۔

ان کے مطابق مجوزہ ترامیم آرڈیننس کی صورت میں صدر کو منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی اور منظوری ملنے کے بعد تمام صوبوں کو ترامیم کے لیے آرڈیننس جاری کرنے ہوں گے۔

دانیال عزیز نے کہا کہ نگران مقرر کرنے کا فیصلہ صرف آئندہ اگست میں ہونے والے ناظمین کے انتخابات پر نافذ ہوگا۔

واضح رہے کہ صوبائی حکومتوں کا مطالبہ تھا کہ ناظمین کو ہٹا کر ’ایڈمنسٹریٹر‘ مقرر کرنے کا انہیں اختیار دیا جائے۔ جبکہ ناظمین اور قومی تعمیر نو بیورو کا اصرار تھا کہ ایڈمنسٹریٹر مقرر نہیں ہونے چاہیں۔

دانیال عزیز نے بتایا کہ یونین کونسلز کے اراکین کی تعداد اکیس سے کم کرکے تیرہ کردی گئی ہے۔ اب ناظم اور نائب ناظم کے علاوہ چار عمومی نشستیں، دو خواتین، دو مرد مزدور، دو خواتین مزدور اور ایک اقلیتوں کے لیے مختص ہوں گی۔

انہوں نے بتایا کہ صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد اور پنجاب کے چار شہروں فیصل آباد، راولپنڈی، گجرانوالہ اور ملتان کی حیثیت عام ضلع سے بڑھاکر ’سٹی ڈسٹرکٹ‘ کے برابر کی جائے گی۔

قومی تعمیر نو بیورو کے چیئرمین کے مطابق ملک بھر میں قائم چالیس سے زیادہ فوجی چھاؤنیوں کے علاقوں میں ایک سو ترتالیس اور اسلام آْباد میں چالیس یونین کونسلز کی حد بندی مکمل کردی ہے۔ ان علاقوں میں بھی آئندہ جولائی سے شروع ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے دوران انتخاب ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناظم کے خلاف بدعنوانی کی شکایات کی صورت میں چھ رکنی کمیٹی جس میں حزب اختلاف کا نمائندہ بھی شامل ہوگا، تحقیقات کرے گی اور رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی۔ اگر وزیراعلیٰ چاہیں تو متعلقہ ناظم کو ہٹا سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد