مسلم کانفرنس میں سیاسی بحران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ اس طرح کی صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب حکمران جماعت کے آٹھ اراکینِ اسمبلی نے وزیراعظم پر عدم اعتماد کا اعلان کیا۔ حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے آٹھ اراکین اسبملی نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں وزیراعظم سردار سکندر حیات پرعدم اعتماد کا اظہار کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ مسلم کانفرنس کا نیا پارلیمانی لیڈر منختب کیا جائے۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کو ڈپٹی سپیکر سمیت تین اور اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ ڈپٹی سپیکر کی طرف سے کوئی تردیدی بیان سامنے نہیں آیا اور دیگر دو اراکین پاکستان سے باہر ہیں اور ان کی واپسی پر ہی معلوم ہوسکے گا کہ وہ کس کی حمایت کرتے ہیں۔ ان آٹھ اراکین کے سربراہ مسلم کانفرنس کے سیکٹری جنرل اور سابق وزیر شاہ غلام قادر ہیں۔ شاہ غلام قادر اور تین اور وزراء نے، جو آٹھ کے گروپ میں شامل ہیں، اس سال فروری میں وزیر اعظم سے اختلافات کے بنیاد پر اپنی وزارتوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا موقف تھا کہ وزیراعظم کے پاس اب اکثریت نہیں رہی، اس لیے وہ وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں۔ ان آٹھ اراکین کے اس اعلان کے بعد حکمران جماعت مسلم کانفرنس سے تعلق رکھنے والے اٹھارہ اراکین اسمبلی نے جن میں آّٹھ وزراً اور سپیکر اسمبلی بھی شامل تھے وزیراعظم سردار سکندرحیات خان کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے یہ اعلان ایک نیوز کانفرنس میں کیا اور کہا کہ وزیراعظم کو اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ کشمیر کے اس علاقے میں اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد اڑتالیس ہے جن میں حکمران جماعت مسلم کانفرنس سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد بتیس ہے جبکہ سولہ کا تعلق حزب مخالف کی جماعت بے نظیر بھٹو کی پییپلز پارٹی سے ہے۔ آئین کی رو سے وہ رکن اسمبلی وزیر اعظم منتخب ہو سکتا ہے جسکو اسمبلی کے اندر سادہ اکثریت حاصل ہو اور اسی اکثریت سے وزیراعظم کو اپنے عہدے سے ہٹایا جاسکتا ہے اور اسکے علاوہ وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے اور کوئی طریقہ آئین میں درج نہیں ہے اور نہ ہی آئین میں ایسی کوئی شق ہے جسکے تحت وزیر اعظم ایوان میں سادہ اکثریت ثابت کر نے کے لیے دوبارہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ مسلم کانفرنس کے اندر پیدا ہونے والی صورت حال پر قابو پانے کے لیے کوششیں بھی ہورہی ہیں لیکن ابھی تک ان کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اور صورت حال اسوقت مزید پچیدہ ہوگئی جب گزشتہ رات مسلم کانفرنس کے سربراہ اور رکن قانون ساز اسمبلی سردار عتیق احمد خان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اب تک اراکین اسمبلی اور کارکن قربانی دیتے آرہے ہیں اور اب وزیراعظم کی باری ہے کہ وہ قربانی دیں۔ بعض لوگ اس بیان کا مطلب یہ لے رہے ہیں کہ وہ بھی تبدیلی کے خواہش مند ہیں۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا اگلے چند روز میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا جائے گا جس میں نئی صورتحال پر بحث کی جائے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گئی۔ اسی دوران سنیچر کو وزیراعظم سردار سکندر حیات نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اکثریت کے فیصلے کا احترام کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اپنے حمایتی اراکین اسمبلی اور وزراء کے اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے اپنے بیان میں کہا کہ اکثریت جو بھی فیصلہ کرتی ہے انہیں منظور ہوگا۔ مستقل میں صورتحال کیا رہتی ہے یہ اگلے چند روز میں حکمران جماعت کے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد ہی واضح ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||