کیا ف (فوج) ق کو’ٹیک اوور‘ کرلے گی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی پارلیمان سے فوج کو قانونی طور پر سیاست میں کردار دینے کا قومی سلامتی کونسل کے قیام کا متنازعہ بل منظور ہوتے ہی جنرل پرویز مشرف نے سیاسی دورے شروع کردیئے ہیں۔ جنرل مشرف نے آغاز سنیچر کے روز لاہور میں حکمران جماعت مسلم لیگ کے پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمینٹ سے خطاب کے ذریعے کیا ہے۔ وفاقی وزیر شیخ رشید نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ صدر مشرف چاروں صوبائی دارالحکومتی شہروں کے دورے کریں گے تاہم ان کا کہنا تھا کہ تاریخوں کا انہیں علم نہیں۔ اتوار کے روز صدر کے خطاب کے حوالے سے تمام پاکستانی اخبارات نے نمایاں خبریں شائع کی ہیں۔ دی نیوز کی خبر کے مطابق جنرل مشرف نے مسلم لیگی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اختلافات بھلا کر پارٹی کو فعال بنائیں اور آئندہ سال ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی بھرپور تیاری کریں۔
اجلاس میں بعض مسلم لیگی ارکان نے صدر کی توجہ وزیر اعظم جمالی اور مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت میں اختلافات کی جانب دلائی تو انہوں نے کہا کہ ان کو پتہ ہے اور وہ اس معاملے کو دیکھ لیں گے۔ ڈان ، دی نیشن ، جنگ اور خبریں سمیت بیشتر اخبارات میں شائع کردہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ صدر نے کہا ہے کہ اسمبلیاں مدت پوری کریں گی اور عام انتخابات سن دو ہزار سات میں ہی ہوں گے۔ صدر کے بقول بلدیاتی انتخابات میں کامیابی عام انتخابات کے لئے پیمانہ ہوگی اس لئے ابھی سے تیاری شروع کی جائے۔ جنرل مشرف سے منصوب بیان کے مطابق ، انہوں نے حکمران جماعت کے اراکین کو یقین دلایا ہے کہ جلاوطن سیاسی رہنما بےنظیر بھٹو، میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف میں سے کوئی وطن نہیں آئے گا لہٰذا وہ اس ضمن میں فکر نہ کریں۔ اس موقع پر صدر نے کشمیر، ملکی معیشت، حکومتی اصلاحات، وانا آپریشن اور دیگر امور پر بھی بات چیت کی۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ لگتا ہے کہ جنرل مشرف مسلم لیگ کی باضابطہ قیادت جلد ہی سنبھالنے والے ہیں۔ پاکستان کی چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سرکردہ رہنما لیاقت بلوچ نے لاہور کے کور کمانڈر کی اجلاس میں شرکت کو خوفناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فوج کا وقار مجروح ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کے رہنماؤں کو اختلاف ختم کرنے اور انتخابات کی تیاریوں کی ہدایات دینا صدر کے منصب کے منافی اور آئین سے ماورا ہے۔ حکومت کے حامی سینیٹر مشاہد حسین سے جب پوچھا گیا کہ صدر مشرف کے مسلم لیگ کے رہنماؤں کو اختلافات بھلا کر انتخابات کی تیاری کرنے کی ہدایت سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ فوج اس سیاسی جماعت کی سرپرستی کر رہی ہے؟ اس پر مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ سرپرستی کا تاثر درست نہیں ہے کیونکہ بطور صدر وہ ایم کیو ایم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملتے رہے ہیں لہٰذا مسلم لیگ والوں سے ملاقات کوئی انوکھی بات نہیں۔ حزب اختلاف کے خدشات اپنی جگہ لیکن صدر کے مسلم لیگ کے اراکین سے کہی گئی باتوں کے متعلق سیاسی حلقوں میں مختلف زاویوں سے بحث ہو رہی ہے۔ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ صدر مشرف مسلم لیگ کو بھی ٹیک اوور کرنے والے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||