امیر سیاستدان، غریب جماعتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں گزشتہ مالی سال کے آمدن اور اخراجات، قرضوں اور اثاثوں کے متعلق سیاسی پارٹیوں کے سالانہ گوشواروں کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں غریب جبکہ ان کے رہنماء امیر ہیں۔ تیس جون دو ہزار چار کو ختم ہونے والے گزشتہ مالی سال کے لیے صرف پینتالیس سیاسی جماعتوں نے گوشوارے الیکشن کمیشن کے پاس داخل کیے ہیں۔ ملک میں سیاسی جماعتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ حکمران مسلم لیگ کی کل املاک کا تخمینہ دو کروڑ چھیاسی لاکھ روپے بتایا گیا ہے جبکہ اس جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کے اپنے گزشتہ سال ظاہر کردہ اثاثے بیس کروڑ روپے کی مالیت کے تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز نے گوشواروں میں بتایا ہے کہ پورے سال میں انہوں نے کوئی خرچہ کیا نہ ہی کوئی انہیں آمدن ہوئی۔ اس جماعت کے اکاؤنٹ میں محض ایک ہزار روپے ظاہر کیے گئے ہیں۔ جبکہ اس کے سربراہ مخدوم امین فہیم نے اپنی ذاتی اثاثے کی قیمت گزشتہ سال لاکھوں روپے ظاہر کی تھی۔ پینتالیس سیاسی جماعتوں کے ظاہر کردہ تمام اثاثہ جات کی جملہ قیمت آٹھ کروڑ روپے بھی نہیں بنتی ۔ ظاہر کردہ اثاثوں کے مطابق حکمران مسلم لیگ اور حزب مخالف کی مسلم لیگ نواز ملک کی امیر ترین سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان دونوں جماعتوں کے اثاثے باقی تینتالیس جماعتوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ حکمران مسلم لیگ نے اپنے اثاثوں کا اندازہ دو کروڑ چھیاسی لاکھ جبکہ مسلم لیگ نواز کے نے دو کروڑ چھیالیس لاکھ روپے لگایا ہے۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں حکمران مسلم لیگ اور مسلم لیگ نواز دونوں نے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں مارگلہ روڈ پر واقع’مسلم لیگ ہاؤس، کو اپنی ملکیت قرار دیا ہے۔ نواز لیگ کےگوشواروں میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی جماعت کی دو کروڑ چھیالیس لاکھ روپوں کی املاک پر حکمران مسلم لیگ نے بیس نومبر سن دوہزار سے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔ یاد رہے کہ اکتوبر ننانوے میں نواز شریف کی حکومت ختم کرکے صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تھا جس کے بعد مبینہ طور پر اسٹیبلشمینٹ کی سربراہی میں مسلم لیگ(قائد اعظم) کے نام سے نئی جماعت میاں اظہر کی سربراہی میں بنائی گئی۔ نئی جماعت کے کارکنوں نے مسلم لیگ نواز کے زیراستعمال دفتر پر قبضہ کرلیا تھا۔ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد’متحدہ مجلس عمل، میں شامل جماعتوں کے گوشواروں کے مطابق ان میں سب سے امیر پارٹی’جماعت اسلامی، ہے۔ جس نے اپنی املاک کا تخمینہ پندرہ لاکھ تینتیس ہزار روپے لگایا ہے۔ جبکہ اس جماعت نے مالی سال دو ہزار تین اور چار کے دوران آمدن ساڑھے انتیس لاکھ اور اخراجات ساڑھے اٹھائیس لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں۔ مجلس عمل کی ایک اور بڑی جماعت جمعیت علماء اسلام فضل الرحمٰن نے سالانہ آمدن اور اخراجات گیارہ لاکھ اڑتیس ہزار روپے بتائے ہیں یعنی جتنی آمدن اتنے ہی اخراجات۔ مولانا سمیع الحق نے اپنی جماعت کی املاک کی قیمت بتائے بغیر سالانہ اخراجات دو لاکھ پچاسی ہزار اور آمدن اڑھائی لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں۔ حافظ عبدالغفار روپڑی کی جمیعت اہل حدیث پاکستان اور پختون خواہ قومی پارٹی کے افضل خان نے اپنے گوشواروں میں ہر جگہ ’Nil‘ لکھا ہے۔ یعنی نہ کوئی ملکیت ہے نہ آمدن اور نہ ہی اخراجات۔ سب سے زیادہ مفصل گوشوارے مسلم لیگ نواز نے داخل کیے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ نے سالانہ آمدن چالیس لاکھ جبکہ اخراجات سوا اڑتیس لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے سترہ لاکھ روپے سیمینارز پر خرچ کیے ہیں۔ عمران خان کی جماعت ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی سالانہ آمدن آٹھ لاکھ چھیالیس ہزار اور خرچہ آمدن سے سات ہزار روپے کم ظاہر کیا گیا ہے۔انہوں نے بھی املاک ظاہر نہیں کیں۔ پیپلز پارٹی شیر پاؤ نے آمدن اور اخراجات پانچ لاکھ کے لگ بھگ ظاہر کیے ہیں۔ جبکہ اکبر بگٹی نے اپنی جماعت جمہوری وطن پارٹی کی سالانہ آمدن اور اخراجات اڑھائی لاکھ روپے بتائے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں قائم جماعت پختونخواہ ملی عوامی پارٹی نے آمدن ستائیس اور اخراجات بائیس لاکھ روپے بتائے ہیں لیکن پچھلے سال کے خسارے کے وجہ سے اب بھی ان کی جماعت کا خسارہ ساڑھے چھ لاکھ روپے ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی نے جس کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل ہیں سالانہ آمدن چار لاکھ بائیس ہزار جبکہ اخراجات چار لاکھ کے قریب بتائے ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت کے کارکنوں کی تعداد بارہ ہزار بتائی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے سیاسی اصلاحات کے نام پر ایک قانون کے ذریعے ملک کی سیاسی جماعتوں کو پابند کیا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے پاس ہر سال اپنے گوشوارے جمع کرائیں۔ اس قانون کے تحت ہر سال تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات اور آمدن، اثاثوں اور قرضوں کی تفصیلات چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی تصدیق کے بعد جمع کرانا لازم ہیں۔ اس قانون کے مطابق گوشوارے جمع نہ کرانے والی سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ نہیں کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||