| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف: ہیومن رائٹس واچ کی تنقید
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے الزام لگایا ہے کہ صدر مشرف کے چار سالہ دور حکومت میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ اقتدار میں آنے کے چار سال مکمل ہونے پر ان کے نام لکھے گئے ایک خط میں تنظیم نے جنرل مشرف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملک کو فوری طور آئینی حکومت کے حوالے کر دیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنے خط میں الزام لگایا ہے کہ صدر مشرف کے چار سالہ دور حکومت میں فوج کے منسلک خفیہ اداروں نے سیاسی مخالفین، تنقید کرنے والے صحافیوں اور سابق حکومتی اہلکاروں کو ہراساں کیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہیومن رائٹس کے مطابق پچھلے چار سالوں میں سیاست کے مرکزی دھارے میں رہنے والے سیاسی جماعتوں کے راہ میں رکاوٹیں کھڑی کئے جانے کی وجہ سے شدت پسند مذہبی گروہوں کی کارروائیوں اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم کے مطابق حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں صدر مشرف کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کی بنا پر بلیک میل اور ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیاء ڈویژن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ان چار سالوں میں عدلیہ کو خصی کردیا گیا، سیاسی جماعتوں کو بے اختیار اور فرقہ وارانہ شدت پسند گروہوں کو مضبوط بنایا گیا۔ تنظیم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے امریکہ سے تعاون پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||