| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ اکٹھی ہوگئی
پاکستان مسلم لیگ کے چار چھوٹے دھڑے حکمراں مسلم لیگ قائداعظم میں ضم ہوگئے ہیں۔ اب مسلم لیگ کا صرف ایک اہم دھڑہ جس کی قیادت سابق وزیراعظم نوازشریف کر رہے ہیں، حکمراں پارٹی سے باہر ہے۔ نوازشریف کی مسلم لیگ ملک میں حزب اختلاف کے ساتھ ہے۔ اسلام آباد سے نامہ نگار ظفر عباس نے اپنے ایک مراسلے میں لکھا ہے کہ اس انضمام کا اعلان وزیراعظم ظفراللہ جمالی نے کیا۔ مسلم لیگ کے پانچ دھڑوں کے رہنماؤں کے درمیان مذاکرات گزشتہ کئی دنوں سے چل رہے تھے۔ جو دھڑے حکمراں جماعت میں ضم ہوئے ہیں ان کی قیادت پیر پگارو، حامد ناصر چٹھہ، اعجازےالحق اور منظور وٹو کر رہے تھے۔ ظفراللہ جمالی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر، چوہدری شجاعت حسین متحدہ مسلم لیگ کے صدر ہوں گے۔ اس انضمام سے ملک کی پارلیمان میں حکمراں اتحاد کو عددی اعتبار سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ مسلم لیگ کے یہ دھڑے پہلے ہی مخلوط حکومت کے ساتھ ہیں۔ ان دھڑوں میں سے صرف دو کے پاس ہی پارلیمان میں ایک دو نشستیں ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ کے لئے دھڑے بندیاں کوئی نئی بات نہیں۔ اصل مسلم لیگ کو ملک کے بانی محمد علی جناح کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے لیکن اسے متعدد حکومتوں اور خاص طور پر فوجی حکمرانوں نے اپنی حکومتوں کو قانونی جواز دینے کے لئے بےدریغ استعمال کیا ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ میں مسلم لیگ کئی مرتبہ ٹوٹی اور پھر جڑی ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ پارلیمان میں جو مسلم لیگ موجود ہے وہی محمد علی جناح کی مسلم لیگ کی اصل نمائندہ ہے اور اس کے ذریعے نواز شریف کی مسلم لیگ کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |