مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 |  الیکشن کمیشن نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ کسی کو انتخابات میں شریک ہونے سے روکا نہ جائے |
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی شرکت میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسے افراد کو تین برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ کسی مخصوص علاقے میں خواتین کو الیکشن میں حصہ لینے سے روکا گیا ہے تو وہاں منعقد کیے گئے بلدیاتی انتخابات کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ایک بیان میں کمیشن کے سیکریٹری کنور دلشاد نے کہا ہے کہ قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ ملک کے بعض علاقوں خصوصاً دیر اور بٹگرام میں علاقے کے با اثر افراد خواتین کو بلدیاتی انتخابات لڑنے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے سے روک رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
 |  الیکشن کمیشن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق میں یہ صاف طور پر لکھا ہے کہ ان انتخابات میں امیدواروں اور ورکروں کو جنسی امتیاز کی بنیادوں پر انتخابی مہم چلانے اور کسی کو اس بنیاد پر انتخابات میں حصہ نہ لینے دینے کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔  |
اس آرڈیننس کے تحت اگر کوئی بھی شخص ان انتخابات پر غیر قانونی طور پر اثر انداز ہوتا ہے یا کسی شخص کو اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے پر مجبور کرتا ہے تو اس کو تین برس قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ الیکشن کمیشن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے ضابطہ اخلاق میں یہ صاف طور پر لکھا ہے کہ ان انتخابات میں امیدواروں اور ورکروں کو جنسی امتیاز کی بنیادوں پر انتخابی مہم چلانے اور کسی کو اس بنیاد پر انتخابات میں حصہ نہ لینے دینے کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی یہ تنبیہ ایسے وقت میں آئی ہے جب صوبہ سرحد کے کچھ علاقوں خصوصاً قدامت پسند علاقے دیر میں سیاسی جماعتیں آپس میں معاہدوں کے ذریعے ایک لاکھ پینتالیس ہزار رجسٹرڈ خواتین ووٹروں کو انتخابات میں اپنا حق استعمال کرنے سے محروم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ دیر میں خواتین کو بلدیاتی الیکشن لڑنے سے روکے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ |