BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 July, 2005, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیِراعلٰی پر ڈرانے دھمکانے کا الزم

وزیِراعلٰی سندھ
پیپلز پارٹی نے ارباب غلام رحیم پر پولیس کو استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے
سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزراء پر مداخلت اور مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے آبائی ضلع تھرپارکر میں پی پی پی سے تعلق رکھنے والے چالیس افراد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے دائر کیے گئے اس مقدمہ میں خان محمد لونڈ اور ان کے رشتہ داروں پر پولیس پر حملے اور ڈیوٹی میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ خان محمد گزشتہ ماہ ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ ان کو دو ماہ تک قید رکھا گیا تھا۔

تھرپارکر کے پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ لوگ طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت امن وامان خراب کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے پولیس پر حملہ بھی کیا اس لیے ان پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔تاہم مقدمے میں کسی بھی امیدوار یا حمایتی امیدوار کا نام نہیں ہے۔

پی پی پی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ مقدمہ وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کے حکم پر درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی کارروائیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائیگا۔

دادو میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر لیاقت علی جتوئی اپنے مخالفین کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ پی پی پی کے مطابق لیاقت جتوئی سرکاری پولیس عملدران کے ہمراہ دادو میں دورہ کر رہے ہیں جس سے لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔

کراچی میں اقلیتی امیدواروں روبن مسیح اور جیمس قادر کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیاہے۔ پی پی پی نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ ان کے اقلیتی امیدواروں کو دستبردار ہونے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب جمشید ٹاؤن میں یونین کاؤنسل تین میں ناظم اور نائب ناظم کے اقلیتی امیدوار سلیم مراد اور ایفرنڈ عمانوایل نے الزام عائد کیا ہے کہ ایک گروپ ان کو دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ پولیس بھی اس کا ساتھ دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اعظم بستی میں اڑتالیس فیصد اقلیتی آبادی ہے اس لیے وہاں ناظم اور نائب ناظم کے انتخابات لڑنا ہمارا حق بنتا ہے اور جس سے ہمیں روکا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کی نگرانی میں ہی منصفانہ انتخابات ہوسکتے ہیں۔

جیکب آباد کے سابقہ ضلع ناظم اور سینیئر سیاستدان میر ہزار خان بجارانی کے فرزند شبیر احمد بجارانی نے قومی اسمبلی کی پانی اور بجلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین سلیم جان مزاری پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابات میں دھاندلیوں کے لیے اپنے قبیلے کے پولیس افسران مقرر کروا رہے ہیں۔

شبیر بجارانی نے الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ سلیم مزاری ضلع ناظم کے امیدوار ہیں اور وزیرِاعلیٰ بھی ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوج یا رینجرز کو مقرر کیا جائے ورنہ شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہیگا۔

سنی تحریک نے اپنے امیدواروں کو زیرِزمین چلے جانے کی ہدایت کی ہے۔تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیے ریاستی مشینری استعمال کی جارہی ہے۔ ہمارے کارکنوں اور امیدواروں کے گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اس لیے امیدواروں کو چھپایا گیاہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کو اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں صوبائی الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کو بھیجی گئی شکایات متعلقہ حکام کو بھیج دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد