BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 July, 2005, 21:07 GMT 02:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف: مذہبی سیاسی ردِ عمل

ایم ایم اے
متحدہ مجلسِ عمل نے کہا ہے کہ مشرف کے خلاف احتجاج جاری رہے گا
پاکستان کی مختلف مذہبی اورسیاسی جماعتوں نے صدر جنرل مشرف کی تقریر پر مخالفانہ ردعمل ظاہر کیا ہے۔

پاکستان میں کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم حزب التحریر کے ترجمان نوید بٹ نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے کبھی بھی صدر مشرف یا کسی بھی مسلم حکمران کے قتل کا فتوی نہیں دیاکیونکہ ان کے بقول ان کی تنظیم خلافت کا نظام چاہتی ہے اور ایک شخصیت کے قتل سے کوئی نظام خود بخود تبدیل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں برطانیہ میں المہاجرون اور حزب التحریر کی موجودگی کا حوالہ دیا تھا اور صدر کی بات سے یہ تاثر ملتا تھا کہ انہیں ان تنظیموں پر اپنی ذات کی سکیورٹی کے حوالے سے اعتراضات ہیں۔

اسلامی تنظیم حزب التحریر کے شاخیں دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں اور یورپ کے علاوہ بعض مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو اس کی سرگرمیوں پر سخت اعتراضات ہیں۔

چند ماہ پہلے وسط ایشیائی ریاست ازبکستان میں ہونے والے خوں ریز واقعات کے لیے ازبک حکومت نے حزب التحریر کی سرگرمیوں کو بھی ایک جواز بنایا تھا۔

پاکستان میں اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا جاچکا ہے لیکن اس تنظیم کے اراکین سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

حزب التحریر کے ترجمان نے ٹیلی فون پر بی بی سی ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم تشدد کے خلاف ہے اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کی تبدیلی کے لیے ایک سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف مغرب سے حزب التحریر کے خلاف کارروائی کی استدعا کرنے کی بجائے حزب التحریر کی پیش کردہ اسلامی فکر کے مقابلے میں اپنی فکر پیش کریں۔

پاکستان میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمدنے صدر بلدیاتی انتخابات کے بارے میں عوام کو روشن خیال لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کو تنقید کا نشانہ بنایا او رکہا کہ انہوں نے اپنے منصب کا غلط استعمال کیاہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ صدرمشرف کی تقریر میں کوئی نئی بات نہیں تھی اور انہوں نے اپنے پرانے موقف کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام مدرسے رجسٹریشن کرانے کوتیار ہیں اور سب نے اپنے فارم بھی جمع کرا رکھے ہیں خود بیوروکریسی ان کی رجسٹریشن کی راہ میں حائل ہے۔

مجلس عمل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ حسین احمد نے کہا کہ’ ننانوے فی صد مدرسے پہلے سے رجسٹرڈ ہیں۔‘

مجلس عمل نے مدرسوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے خلاف آج یعنی جمعہ کے روز ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے اور پروگرام کے مطابق مساجد میں خطبوں میں بھی ان چھاپوں کی مذمت کی جائے گی۔

صدر مشرف نے اپنی تقریر میں مساجد کے خطبوں میں نفرت انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن کا اعلان کیا ہے۔

مجلس عمل کے حافظ حسین احمد نے کہا کہ ان کے اس بیان سے جمعہ کے یوم احتجاج کے پروگرام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور منبر و محراب سے حق کی آواز بلند کی جاتی رہے گی۔

مجلس عمل پنجاب کے صدر جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت خود فرقہ پرست اور تشدد پسند عناصر کی مبینہ سرپرستی کرتی ہے اور ان کے بجائے برعکس ان کے خلاف کارروائی کی بات کرتی ہے جو مساجد سے فوجی آمریت کے خاتمے اور جمہوریت اور قومی یک جہتی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام کے نائب صدر مولانا امجد خان نے کہا کہ صدرنے عوام کو ناسمجھ اور جاہل قرار دیکر ان کی توہین کی اور دینی قوتوں کے بارے میں ان کے ریمارکس ان کے منصب کے شایان شان نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد