’مشرف کا بیان غلط رپوٹ ہوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ جرمن میگزین میں صدر جنرل پرویز مشرف سے منسوب اس بیان کو غلط طریقے سے رپورٹ کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ ایران بڑی سرگرمی سے جوہری بم بنانے کا خواہاں ہے۔ ترجمان کے مطابق صدر نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ انھیں نہیں معلوم کہ آیا ایران ایسا کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے ایران کے دفتر خارجہ نے پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف سے منسوب اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ریمارکس کی وضاحت کریں جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ ’ایران بہت سرگرمی سے جوہری بم حاصل کرنا چاہتا تھا۔‘ صدر جنرل مشرف سے منسوب یہ بیان ایک جرمن میگزین ’ڈر شپیگل‘ میں شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حامد رضا آصفی نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف ایسی بات نہیں کی ہوگی کیونکہ وہ ان معاملات کو بہتر سمجھتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران ابھی تک اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں یہی کہتا آیا ہے کہ یہ پروگرام پر امن ہے اور ایران جوہری بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ پاکستان نے گزشتہ منگل کو بین الاقوامی جوہری ادارے آئی اے ای اے کو چند پرانے سینٹریفیوجز کے نمونے بھجوائے ہیں تاکہ یہ بات واضح ہو سکے کہ کیا دو ہزار تین میں ایران سے ملنے والے یورینیم کے نمونے پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کی طرف سے ایران کو غیر قانونی طور پر دیے گئے سینٹریفیوجز سے حاصل کئے گئے تھے یا ایران اپنے طور پر یورینیم کشید کر رہا تھا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے جرمن میگزین کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کے نتائج تباہ کن ہوں گے اور اسلامی ممالک میں اس اقدام کے خلاف مزاحمت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اپریل کے اوائل میں کہا تھا کہ ملک کے جوہری سائنسدان اور ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران کو سینٹریفیوجز فراہم کئے تھے۔ تاہم ان کے مطابق ان سینٹریفیوجز کی تعداد کا انہیں علم نہیں اور نہ ہی پاکستانی حکومت ان سینٹریفیوجز کی فراہمی میں ملوث ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||