جوہری ہتھیار نہیں بنا رہے: ایران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے جوہری پروگرام پر جنیوا میں یورپی اتحاد کے تین سرکردہ ملکوں کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایرانی وفد نے ایک بار پھر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنارہا۔ ایران اور تین یورپی ملکوں، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان ان مذاکرات کو اس بات کی آخری کوشش سمجھا جارہا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع نہ کرے جس سے جوہری ہتھیار بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ ایران نے ایک سمجھوتے کے تحت گزشتہ برس سے یورینیم کی افزودگی معطل کی ہوئی ہے۔ جنیوا سے بی بی سی کے نامہ نگار اموجن فوکس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مذاکرات ہمیشہ سے ہی بہت دشوار رہے ہیں۔ اس لحاظ سے مذاکرات کا ناکام نہ ہونا ہی ایک مثبت اشارہ ہے گو کسی حقیقی پیشرفت کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ مذاکرات میں یورپی اتحاد کے ملکوں نے پیش کش کی ہے کہ وہ جولائی تک ایک ایسا باضابطہ طریقۂ کار پیش کریں گے جس کے تحت ایران گزشتہ سمجھوتے کی پیروی کرسکے گا۔ جواب میں ایران نے ایک بار پھر جوہری ہتھیار نہ بنانے کا اعادہ کیا تاہم ساتھ ہی پرامن جوہری توانائی کے حصول کا حق بھی دہرایا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ جیک اسٹرا نے مذاکرات کے موجودہ دور کو کامیاب قرار دیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی نہیں دہرائی لیکن ساتھ ہی اس نے اس کو بالکل خارج ازامکان بھی نہیں قرار دیا۔ اس کے بجائے ایرانی وفد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی حکومت سے اس بارے میں مشورہ کرے گا۔ دوسری جانب امریکہ بدستور اس بات پر مصر ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام بالکل ختم کردے کیونکہ بقول امریکہ ، ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول کے پروگرام پر کاربند ہے۔ اب یورپی اتحاد کی جانب سے ایرانی تعاون کے لیے دو مہینے میں مفصل تجاویز پیش کرنے کا وقت ایران کو کچھ مہلت دے گا۔ ایران میں آئندہ ماہ صدارتی انتخابات ہونے ہیں اور ملک کا جوہری پروگرام ووٹروں کے لیے ایک اہم موضوع ہوگا۔ درحقیقت موجودہ مذاکرات نے ایران کے جوہری پروگرام کا تنازعہ حل نہیں کیا بلکہ محض کچھ وقت کے لیے ٹال دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||