اصلاح پسندوں پر پابندی ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی نگہبان شوری نے دو اصلاح صدارتی امیدوراوں کو اگلے مہینے ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ ایران میں سترہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخاب کے لیے مہینے مصطفی ٰ معین اور محسن مہر علی زادہ کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ آیت اللہ خامنائی نے شوریٰ نگہبان سے کہا ہے کہ مصطفی ٰ معین اور محسن مہر علی زادہ کے بارے میں اپنے فیصلے کا از سر نو جائزہ لے۔ شوریٰ نگہبان امیدواروں کی اہلیت کا جائزہ لے کر فیصلہ دیتا ہے کہ کیا وہ اس کے اہل ہیں یا نہیں۔ مصطفیٰ معین وزیر تعلیم رہ چکے ہیں اور وہ سب سے بڑی اصلاح پسند جماعت مشارکت فرنٹ کی جانب سے امیدوار ہیں جس نے ان کی نااہلی پر زور احتجاج کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق آیت اللہ خامنائی نے کہا کہ ہر طرح کے رجحات کے لوگوں کو انتخاب میں شرکت کا موقع ملنا چاہیے۔ اصلاح پسندوں نے اس اقدام کو ’غیر قانونی ‘ قرار دیتے ہوئے 17 جون کے انتخابات کے بائیکاٹ کی دہمکی دے رکھی ہے۔ گزشتہ برس بھی پارلیمانی انتخابات اس وقت تنازعہ کا شکار ہو گئے تھے جب اسی شوریٰ نگہبان نے ڈھائی ہزار اصلاح پسند امیدواروں کو نہ اہل قرار دیا تھا۔ جن لوگوں کی نامزدگی منظور کی گئی ہے ان میں سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی ، چار قدامت پسند اور ایک اصلاح پسند شامل ہے۔ ان چار قدامت پسندوں میں ایک سابق پولیس چیف ، ریولیوشنری گارڈز کے سابق کمانڈر ، تہران کے میئر اور سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کے سابق سربراہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||