BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 May, 2005, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران:امیداروں کا نیا ریکارڈ
سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی سب سے زیادہ مشہور امیداور ہیں۔
سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی سب سے زیادہ مشہور امیداور ہیں۔
ایران میں اگلےماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیدواروں کی ایک ریکارڈ تعداد حصہ لے رہی ہے۔ ایک ہزار دس امیداروں نے اپنی نامزدگی کے لیے کاغذات جمع کرائے ہیں۔

کاعذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ ہفتہ چودہ مئی تھی۔ اب ملک کی مجلس نگہبان اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ان امیداروں میں سے کون کون انتخاب لڑ سکے گا۔

صدارتی امیداروں کی اس ریکارڈ تعداد میں نواسی خواتین بھی شامل ہیں لیکن مجلس نگہبان پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ عورتیں صدارتی امیدار نہیں بن سکتیں۔

ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی ان امیداروں میں شامل ہیں جنہیں اشارہ مل چکا ہے کہ ان کے نام امیدواروں کی حتمی فہرست میں شامل ہوں گے۔

تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ اکبر ہاشمی رفسنجانی، جو کہ انیس سو نواسی سے ستانوے تک دو معیاد کے لیے صدر رہے ہیں، کو ایک عملی قدامت پسند کے طور پر جانا جاتا ہے جو مغرب کے ساتھ اچھے تعلقات کے لیے تیار ہیں لیکن معاشرتی طور پر دیگراصلاح پسندوں سے زیادہ روایت پسند ہیں۔

دیگر صدارتی امیدواروں میں تہران کے میئر محمود احمدی نجاد اور ملک کی پولیس کے سابق سربراہ محمد باقر قالیباف بھی شامل ہیں۔

کئی سیاسی مخالفین کے علاوہ قومی فٹبال ٹیم کےسابق گول کیپر ناصر حجازی جیسےغیرسیاسی لوگ بھی صدارتی امتخابات میں امیدوار طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق عمر کے لحاظ سےصدارتی امیدوروں میں ایک سولہ سالہ لڑکے کے علاوہ اور ایک چھیاسی سالہ ضیعف شخص بھی شامل ہیں۔

سن دو ہزار ایک میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں امیداوروں کی تعداد آٹھ سو چودہ تھی۔

یاد رہے ملک کے موجودہ صدر محمد خاتمی صدارتی امیدواروں میں شامل نہیں کیونکہ ملک کا آئین کسی کومسلسل تیسری مدت کے لیے صدارتی امیدوار ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

مجلس نگہبان صدارتی امیداروں کے کاغذات پر حتمی فیصلہ دس دن میں کرے گی۔

گزشتہ سال پارلیمانی انتخابات میں تقریباً دو ہزار امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا، دوسرے الفاظ میں بیشتر اصلاح پسندامیدواروں کوان انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا تھا۔

تاہم ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے شاید اس مرتبہ مجلس نگہبان قدرے محتاط ہو گی کیونکہ انہیں یہ خطرہ بھی ہے کہ انتخابات میں ووٹروں کی کم تعداد مجلس کی حیثیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد