امریکی مؤقف مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران نے امریکی اسلحہ کو عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے جوہری توانائی پر اسکاموقف مسترد کر دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ کمال خرازی نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ اس بات کی یقین دہانی کرائے کہ وہ ایران پر جوہری حملہ نہیں کرے گا۔ مسٹر کمال خرازی نے امریکی صدر بش کے اس مطالبے کو بھی مسترد کر دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری توانائی کے فوائد سے محروم رکھا جانا چاہیے۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری اسلحہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اسکا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کمال خرازی نے این پی ٹی کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری ممالک عدم پھیلاؤ کو جواز بنا کر دیگر ممالک جوہری ٹیکنالوجی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ ایران نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ جلد ہی اپنے جوہری پروگرام پر دوبارہ عمل درآمد شروع کر دے گا۔ تاہم اس نے واضح کیا کہ یورینیئم کی افزودگی کا کام بدستور معطل رہے گا۔ اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کو جوہری توانائی کے فوائد سے محروم رکھا جانا چاہئیے، کیونکہ ان ممالک نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے یعنی ’این پی ٹی‘ کی خلاف ورزی کی ہے۔ امریکی نائب خارجہ سیکریٹری سٹیون ریڈمیکر نے کہا کہ یہ دونوں ممالک جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے اس مسئلے کا حل نکالنا ضروری ہے۔ مسٹر ریڈمیکر نے این پی ٹی کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کی کانفرنس کے پہلے دن خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ ملیشیا سمیت کئی ممالک نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدہ میں توازن کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار کے پھیلاؤ کی جگہ امریکہ سمیت دیگر جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک کو غیر مسلح کرنے پر توجہ دی جانی چاہئیے۔ ملیشیا اس کانفرنس میں غیر وابسطہ ممالک کی تنظیم کی نمائندگی کر رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||