اسلامی موضوعات پر ایرانی کارٹون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی ثقافت کے تسلط کو چیلنج کر تے ہوئے ایرانی ٹیلی ویژن نے اسلامی خیالات پر مبنی متحرک تصویروں والی فلمیں یعنی کارٹون فلمیں بنانا شروع کر دی ہیں اور ان میں سے کچھ فلموں کی مسلم ممالک کو برآمد بھی شروع ہو گئی ہے۔ بچوں کیلئے تیار کیے گئے ان پروگراموں میں عمامہ اور قبا میں ملبوس شیعہ علما کو اسلامی انقلاب کے شہدا کی زندگیاں پیش کر تے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کارٹون فلم ’شہید باہُنر‘ میں ایک ایسے بچے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو مستقبل میں ایران کا وزیر اعظم بنتا ہے۔ یہ بچہ اپنے ابتدائی ایام میں قران کی تعلیم حاصل کرتا ہے، پھر تعلیم کے بعد عالم بنتا ہے اور انقلاب کے بعد ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو جاتا ہے۔ انہی فلموں میں ایک کا نام ’عاشورائيان‘ ہے جس میں شیعہ مسلمانوں کےلئے انتہائی قابل احترام ہستی، امام حسین کی شہادت کو پیش کیا گیا ہے۔ ایک اور کارٹون فلم ’الرشید کے بچے‘ میں فلسطینیوں کی جدوجہد کو ایرانی فکر کے مطابق دکھایا گیا ہے۔ اس فلم میں ایک اسرائیلی فوجی کمانڈر کے ایک خوشامد عرب مخبر سے تعلقات دکھائے گئے ہیں جو اس سے یہ کہتا ہے کہ فلسطینی بچوں کو گھیر کر لاؤ تاکہ ان کی تفتیش کی جاسکے یا ان سے کچھ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ان کارٹون فلموں میں سیاسی موضوعات پر کارٹون فلمیں بنانے والے ادارے، صبا پروڈکشنز سے، جو کے ایران کے سرکاری ٹیلیویژن کا ایک ذیلی ادارہ ہے، جب بی بی سی نے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے انکار کردیا۔ البتہ انھوں نے اپنی فلموں کے کچھ اقتباسات مہیا کردیے۔ ایران میں بننے والے ساری کارٹون فلمیں سیاسی موضوعات پر نہیں بنائی گئی ہیں۔ کچھ ایران کی عام زندگی کی بھی عکاسی کرتی ہیں جن میں عمر رسیدہ خواتین کو چادر لپیٹے اور ننھی بچیوں کو سر پر حجاب پہنے دکھایا گیا ہے جبکہ گھروں میں سماور یعنی کیتلی سے ایرانی قہوہ بھی پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ب
بہروز يغماييان کا کہنا ہے کہ ’متحرک تصویری فلموں کے ذریعےمختلف ثقافتوں اور تہذیبوں میں معلومات کے تبادلے کا بہت زیادہ امکان ہے۔ ہر ملک کو ایک دوسری سے اپنے آپ کو ذرا مختلف طور پر پیش کر نا چاہئیے۔‘ يغماييان کا کارٹون فلمیں بنانے کا ایک ذاتی نجی ادارہ ہے جس کا نام ’رسانہ فرد‘ ہے اور وہ ایران ٹیلیویژن کیلئے کارٹون فلمیں تیار کرتے ہیں۔ يغماييان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایرانی لوک داستان پر مبنی فلمیں بھی بنائی ہیں۔ اور اب وہ ایک ایرانی دیو مالائی کہانی پر بھی ایک فیچر فلم بنارہے ہیں۔ ان کے ادارے میں کام کر نے والے زیادہ تر نوجوان مرد اور خواتین ہیں جو ہر وقت کمپیوٹرز پر کام کرتے ہوئے آئیندہ آنے والی فلموں کے کرداروں کو بہتر سے بہتر بنانے اور انھیں خوبصورت رنگوں سے مُزیّن کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، مثال کے طور پر وہ آج کل پیغمبر اسلام پر بننے والی متحرک تصویری (کارٹون) فلم پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آسمانی کتب انجیل اور زبور کے کرداروں، مثلاً حضرت نوح پر بھی کارٹون فلمیں تیار کر رہے ہیں۔ ایران کے ان کارٹون فلم سازوں نے یہ فلمیں ترکی کو فروخت کی ہیں مگر عرب ملکوں نے انھیں خریدنے سے انکار کیا ہے کیونکہ ُسنّی عرب ثقافت میں پیغمبر کی تصویر دکھانا قابل اعتراض سمجھا جاتا ہے۔ بہر حال بہروز يغماييان کا کہنا ہے کہ ’تفریح کے علاوہ متحرک تصویروں پر بنی ان فلموں (کارٹون فلمیں) کا ایک اور مقصد بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متحرک تصویروں پر مشتمل یہ فلمیں معاشرتی اور ثقافتی پیغامات کی تشہیر کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔‘ ایران نے ماحولیات کی حفاظت کے پیغامات کی تشہیر کے لیے بھی کارٹون فلموں کو استعمال کیا ہے۔ سڑکوں پر ڈرائیونگ بہتر کرنے کیلئے بھی یہ فلمیں کام آرہی ہیں اور اب تو آئیندہ صدارتی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ لوگوں میں ووٹ ڈالنے کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے بھی کارٹون فلمیں تیار کی جارہی ہیں۔ ان فلموں کے موضوعات مختلف ہوں گے مگر تکنیک وہی ہو گی جو کہ مغربی ممالک میں کسی بھی کارٹون فلم کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔ ایک ایرانی آرٹسٹ شہرام خوارزمی کا کہنا ہے کہ ’جب کارٹون فلم میں متحرک تصویروں کو استعمال کیا جاتا ہے تو تکنیک تو وہی استعمال ہو گی جو کلاسیک ڈزنی فلموں میں ہوتی ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے کیمرے کے استعمال کی تکنیک جاپان میں بنائی گئی کارٹون فلموں سے سیکھی ہے۔ شہرام خوارزمی کہتے ہیں کہ ’میرا ان میں سے کسی بھی تکنیک پر انحصار نہیں ہے بلکہ میں ان دونوں سے فیض حاصل کر نے کی کوشش کرتا ہوں۔‘ ان کا خیال ہے کہ ایک دن ایران میں ان تکنیکوں کو اس سطح تک کی ترقی حاصل ہو جائیگی کہ وہ ایران کی روایتی ’منی ایچر‘ (Miniature) یا انتہائی چھوٹی سائز کی تصویروں کی روایت کو ساتھ رکھتے ہوئے ایک نئی قسم کی متحرک تصویروں والی کارٹون فلمیں بنا سکیں گے جن میں جدّت اور روایت کا ایک امتزاج نظر آئے گا۔ | اسی بارے میں ایران: ہنگامے، الجزیرہ پر پابندی19 April, 2005 | صفحۂ اول خواتین کے مظاہرے پر لاٹھی چارج08 March, 2004 | صفحۂ اول ’ایران پر حملہ خارج ازامکان نہیں‘19 February, 2005 | صفحۂ اول امریکہ کی تردید، ہرش کا اصرار 17 January, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||